Meaning of

آفت

aaft • आफ़त

آفت; مصیبت

calamity; disaster

आपदा; विपत्ति

Arabic

یاد ہے وہ ہے وہ تیری کھو کر ہم غزل بناتے ہیں
آفتاب ڈھلتا ہے جب یہ شام ہوتی ہے

4

Download Image

حقیقت آفتاب لانے کا دے کر ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ فریب
ہم سے ہماری رات کے جگنو بھی لے گیا تو

47

Download Image

زما
لگ چاہے جو آج کر لے نہیں رکیں گے قدم ہمارے
ج
سے آگ سے آفتاب روشن حقیقت آگ دل ہے وہ ہے وہ دھدک رہی ہے

43

Download Image

آفت تو ہے حقیقت ناز بھی انداز بھی لیکن
مرتا ہوں ہے وہ ہے وہ ج
سے پر حقیقت ادا اور ہی کچھ ہے

37

Download Image

حقیقت اپنے چہرے ہے وہ ہے وہ سو آفتاب رکھتے ہیں
اسی
لیے تو حقیقت رکھ پہ نقاب رکھتے ہیں

30

Download Image

حقیقت آفتاب لانے کا دے کر ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ فریب
ہم سے ہماری رات کے جگنو بھی لے گیا تو

29

Download Image

ج
سے کو بڑا غرور تھا اپنے وجود پر
حقیقت آفتاب شام کی چوکھٹ پہ مر گیا تو

26

Download Image

چاند لا سکا نہیں کبھی صنم ہے سچ م
گر
لا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ تمہاری خاطر آفتاب اب

24

Download Image

صبح صبح یہ آفتاب کون لایا ہے
بڑی مشقتوں سے چاند کو سلایا ہے

دھواں سا اٹھ رہا ہے کب سے میری آنکھوں میں
بجھا دے جس کسی نے دل میرا جلایا ہے

15

Download Image

سب ہوں یہ سمے رخصت لگ ہوں
ہوں ملاقات آفت لگ ہوں

جاناں تصور ہے وہ ہے وہ آتی رہو
دل لگے جاناں سے خوبصورت لگ ہوں

6

Download Image

یاد ہے وہ ہے وہ تیری کھو کر ہم غزل بناتے ہیں
آفتاب ڈھلتا ہے جب یہ شام ہوتی ہے

4

Download Image

حقیقت آفتاب لانے کا دے کر ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ فریب
ہم سے ہماری رات کے جگنو بھی لے گیا تو

47

Download Image

اصل میں 'آفت' کا مطلب ہے آفت یا مصیبت، ایک ایسی قوت جو قدرتی ترتیب کو درہم برہم کرتی ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر قسمت کی زبردست طاقت یا محبت کی تباہ کن فطرت کی نمائندگی کرتا ہے، جو ایسے تجربات کے ساتھ آنے والے ہنگامہ خیز جذبات کو پکڑتا ہے۔

شاعر 'آفت' کا استعمال محبت یا قسمت کے لائے ہوئے انتشار کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر سکون کے لمحات کے برعکس ہوتا ہے، جس سے خوشی کی نزاکت کو اجاگر کیا جاتا ہے۔

شاعری میں، 'آفت' زندگی کی غیر یقینی صورتحال اور خوشی و غم کے درمیان نازک توازن کی یاد دہانی ہے۔