Meaning of

آید

aayad • आयद

آمد; آنا

arrival; coming

आगमन; आना

Persian

آواز دے کے دیکھ لو شاید حقیقت مل ہی جائے
ور
لگ یہ عمر بھر کا سفر رائےگاں تو ہے

52

Download Image

شاید مجھے کسی سے محبت نہیں ہوئی
لیکن یقین سب کو دلاتا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ

841

Download Image

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں ہے وہ ہے وہ ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں ہے وہ ہے وہ ملیں

95

Download Image

تری جانے کے بعد ب
سے یادیں
ہر طرف یاد یاد ب
سے یادیں

سونا چان
گرا زمین گھر سب کچھ
ہیں مری جائیداد ب
سے یادیں

81

Download Image

ج
سے کو خود ہے وہ ہے وہ نے بھی اپنی روح کا عرفاں سمجھا تھا
حقیقت تو شاید مری پیاسے ہونٹوں کی شیطانی تھی

80

Download Image

موت کا بھی علاج ہوں شاید
زندگی کا کوئی علاج نہیں

76

Download Image

یہ سوچ کر کے حقیقت کھڑکی سے جھانک لے شاید
گلی ہے وہ ہے وہ کھیلتے بچے لڑا دیے ہے وہ ہے وہ نے

67

Download Image

رات کے شاید ایک بجے ہیں
سوتا ہوگا میرا چاند

60

Download Image

کوئی اٹکا ہوا ہے پل شاید
سمے ہے وہ ہے وہ پڑ گیا تو ہے بل شاید

دل ا
گر ہے تو درد بھی ہوگا
ا
سے کا کوئی نہیں ہے حل شاید

60

Download Image

یہ بے حد غم کی بات ہوں شاید
اب تو غم بھی گنوا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ

55

Download Image

آواز دے کے دیکھ لو شاید حقیقت مل ہی جائے
ور
لگ یہ عمر بھر کا سفر رائےگاں تو ہے

52

Download Image

شاید مجھے کسی سے محبت نہیں ہوئی
لیکن یقین سب کو دلاتا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ

841

Download Image

لفظ 'آید' کسی منتظر چیز کی نرم آمد کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر جذبات، موسموں یا محبوب شخصیات کی آمد کی علامت ہوتا ہے، جو اپنے ساتھ ایک قسم کی خواہش اور تکمیل کا احساس لاتا ہے۔

شاعر 'آید' کا استعمال بہار کی آمد، محبت کی شروعات، یا کسی عزیز یاد کی واپسی کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اچانک یا سخت آمد کے برعکس، نرمی اور وقار کو ظاہر کرتا ہے۔

'آید' کی شاعرانہ جوہر میں منتظر آمد کی خوبصورتی شامل ہے، جہاں سفر اور منزل دونوں ہی یکساں طور پر عزیز ہوتے ہیں۔