Meaning of

انجم

anjum • अंजुम

ستارے; فلکی اجسام

stars; celestial bodies

तारे; खगोलीय पिंड

Arabic

सम्त-ए-पंजुम में तू छुपा है कहीं
शौक़-ए-दीदार से भरे हम लोग

7

Download Image

انجم تمہارا شہر جدھر ہے اسی طرف
اک ریل جا رہی تھی کہ جاناں یاد آ گئے

48

Download Image

عروج آدم خاکی سے انجم سے
ہمیں جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل لگ بن جائے

30

Download Image

غنچہ و گل تنخواہ و انجم سب کے سب بیکار تھے
آپ کیا آئی کہ پھروں موسم سہانا آ گیا تو

28

Download Image

گلے ملی کبھی اردو ج
ہاں پہ ہم رہی سے
مری مزاج ہے وہ ہے وہ ا
سے صورت آشنا کی خوشبو ہے

27

Download Image

انجم تمہارا شہر جدھر ہے اسی طرف
اک ریل جا رہی تھی کہ جاناں یاد آ گئے

27

Download Image

دیکھو تو چشم یار کی جادو نگاہیاں
بےہوش اک نظر ہے وہ ہے وہ ہوئی صورت آشنا تمام

24

Download Image

جب ذرا رات ہوئی اور مہ و انجم آئی
بارہا دل نے یہ محسو
سے کیا جاناں آئی

22

Download Image

دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا تو ہوں یا رب
کیا لطف صورت آشنا کا جب دل ہی بجھ گیا تو ہوں

16

Download Image

ہم صورت آشنا ہے وہ ہے وہ سب کی طرف دیکھتے رہے
اپنی طرح سے کوئی اکیلا نہیں ملا

11

Download Image

सम्त-ए-पंजुम में तू छुपा है कहीं
शौक़-ए-दीदार से भरे हम लोग

7

Download Image

انجم تمہارا شہر جدھر ہے اسی طرف
اک ریل جا رہی تھی کہ جاناں یاد آ گئے

48

Download Image

اپنے اصل معنی میں، 'انجم' ان ستاروں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو رات کے آسمان کو سجاتے ہیں، ہر ایک اپنی الگ دنیا ہے۔ شاعری میں، یہ لفظ حیرت اور کائنات کے لامتناہی رازوں کا احساس بیدار کرتا ہے، اکثر رہنمائی، قسمت، یا دل کی ناقابل رسائی خواہشات کی علامت ہوتا ہے۔

شاعر اکثر 'انجم' کا استعمال ستاروں اور انسانی جذبات کے درمیان مماثلت پیدا کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ تاریکی میں امید، خوابوں کی تلاش، یا محبت کی ابدی نوعیت کی علامت ہو سکتا ہے۔ یہ لفظ زمینی مسائل کے برعکس ہے، موضوع کو ایک کائناتی سطح پر لے جاتا ہے۔

شاعرانہ کائنات کی وسیع وسعت میں، 'انجم' ایک الہام اور اسرار کے مینار کی طرح چمکتا ہے۔ یہ روح کو معلوم سے پرے بھٹکنے کی دعوت دیتا ہے۔