Meaning of

انوار

anwaar • अनवार

روشنی; چمک

lights; radiances

प्रकाश; चमक

Arabic

بگڑ گئی تھی جو دنیا سوار دی ہم نے
چڑھا کے سر پہ محبت اتار دی ہم نے

5

Download Image

مدتوں بعد اک بے وجہ سے ملنے کے لیے
آئی
لگ دیکھا گیا تو بال سنواردے گئے

314

Download Image

بد نظر سے کبھی نہیں دیکھا
تیری تصویر بھی کنواری ہے

35

Download Image

سوچا تھا ہم نے آج سنواریں گے سمے کو
اب ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے زلف تو پھروں زلف ہی صحیح

33

Download Image

خدر پہن کے بیچ رہا تھا شراب حقیقت
دیکھا مجھے تو ہاتھ ہے وہ ہے وہ اڑے اٹھا لیا

ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی کوئی قلندر مزاج سپاہی لگ تھا جناب
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی جام پھینک کے ڈنڈا اٹھا لیا

23

Download Image

مجھ کو خواہش ہے اسی شان کی دیوالی کی
لکشمی دیش ہے وہ ہے وہ الفت کی شب و روز رہے

دیش کو پیار سے محنت سے سنواریں مل کر
اہل بھارت کے دلوں ہے وہ ہے وہ یہ کنول سوز رہے

22

Download Image

بگڑ گئی تھی جو دنیا سوار دی ہم نے
چڑھا کے سر پہ محبت اتار دی ہم نے

اندھیری رات کسی بےوفا کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
بے حد طویل تھی لیکن گزاری دی ہم نے

11

Download Image

کہ دیکھو خوبصورت لگ رہی ہے نا یہ پہلے سے
ہاں ا
سے تصویر کی ہے وہ ہے وہ نے ہی کل زلفیں سنواری تھی

7

Download Image

اسی کی آ
سے نے سنبھال رکھا ہجر ہے وہ ہے وہ مجھے
وہی جو اپنی زلفیں تک نہیں سنوارت پاتی ہے

6

Download Image

مجھ سے ملنے حقیقت مری گھر آ رہی
ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی بیٹھا ہوں سنواردے بال کو

6

Download Image

بگڑ گئی تھی جو دنیا سوار دی ہم نے
چڑھا کے سر پہ محبت اتار دی ہم نے

5

Download Image

مدتوں بعد اک بے وجہ سے ملنے کے لیے
آئی
لگ دیکھا گیا تو بال سنواردے گئے

314

Download Image

اصل میں، 'انوار' روشنی یا چمک کی نمائندگی کرتا ہے، جو روشنی کے جوہر کو پکڑتا ہے۔ شاعری میں، یہ علم، امید اور روح کے اندرونی الہی چنگاری کی علامت بن جاتا ہے۔

شاعر 'انوار' کا استعمال روحانی بیداری، فہم کی صبح، یا محبت کی چمک کی تصاویر کو اجاگر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر جہالت پر فتح کی علامت بن کر تاریکی کے برعکس ہوتا ہے۔

شاعری میں 'انوار' امید اور علم کا مینار ہے، جو ہمیں سائے کے ذریعے رہنمائی کرنے والی روشنی کی یاد دلاتا ہے۔