Meaning of

ارغ

argh • अर्घ

ارغ; نذر

libation; offering

अर्घ्य; भेंट

Sanskrit

فارغ نہیں لیکن تجھے دل نے مری
خوابوں خیالوں ہے وہ ہے وہ سجا رکھا صدا

1

Download Image

ا
سے دنیا کے مرگھٹ پتھ تک
ہاتھ پکڑ کر ہاتھ چلیں گے

کیول مال نہیں ہم دونوں
سبزی جوان فصلیں ساتھ چلیں گے

38

Download Image

تری یہ عاشقوں کی بھیڑ سے ہے شہر ہے وہ ہے وہ رونق
نہیں تو شہر کی قسمت ہے وہ ہے وہ سناٹا ہے مرگھٹ کا

3

Download Image

زخم کیا ہوگا ج
ہاں ہے وہ ہے وہ اور کوئی دوسرا
باپ کے شانے ا
گر مرگھٹ کو بیٹا چل پڑے

2

Download Image

بتا دی دل کی سبھی باتیں اس کا کو ہے وہ ہے وہ نے آج
ہے وہ ہے وہ ہے وہ مرگھٹے سے ہوں لوٹا اذان دیتے ہوئے

2

Download Image

اب مجھے فارغ کروں جاناں اپنی یادوں سے
کوئی آیا ہے میرا بننے مری گھر ہے وہ ہے وہ

1

Download Image

ستارے تم جب تری سب ڈوب جائیں گے کسی اک دن
ابھی ہیں ساتھ جو بھی اوب جائیں گے کسی اک دن

نہیں تجھ پہ ہیں تیری دولت و شہرت پہ ہیں مائل
تجھے سب چھوڑ یہ مرغوب جائیں گے کسی اک دن

1

Download Image

موت کے بعد بھی ذات لگ پیچھا چھوڑےگی
ان سب نے مرگھٹ بھی ا
پیش بنائے ہیں

1

Download Image

فارغ نہیں لیکن تجھے دل نے مری
خوابوں خیالوں ہے وہ ہے وہ سجا رکھا صدا

1

Download Image

ا
سے دنیا کے مرگھٹ پتھ تک
ہاتھ پکڑ کر ہاتھ چلیں گے

کیول مال نہیں ہم دونوں
سبزی جوان فصلیں ساتھ چلیں گے

38

Download Image

اپنے اصل معنی میں، 'ارغ' ایک مقدس نذر کی علامت ہے، جو عقیدت اور احترام کا اظہار ہے۔ شاعری میں، یہ اپنے مذہبی پس منظر سے آگے بڑھ کر محبت اور قربانی کی علامت بن جاتا ہے۔

شاعر اکثر 'ارغ' کا استعمال کسی کی عقیدت کی گہرائی کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ کسی محبوب یا اعلیٰ طاقت کے سامنے خود سپردگی کی علامت ہو سکتا ہے۔ یہ لفظ مقدس رسومات کی تصویر کشی کرتا ہے، جس سے شعر کی جذباتی گہرائی میں اضافہ ہوتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'ارغ' گہری عقیدت اور قربانی کے اظہار کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہ دینے اور لینے کے لازوال رقص کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا ہے۔