Meaning of
عرض وحشت
arz-e-wahshat • अर्ज़-ए-वहशत
Urdu
جنگلی پن کا اظہار; بے قابو جذبات کا مظاہرہ
English
expression of wildness; display of untamed emotion
Hindi
जंगलीपन की अभिव्यक्ति; अनियंत्रित भावना का प्रदर्शन
Origin
Persian
Nuance
عرض وحشت اپنی اصل میں جنگلی پن کے ایک کچے، بے قابو اظہار کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری نے اس لفظ کو اپنایا ہے تاکہ انسانی جذبات کی گہرائیوں کو دریافت کیا جا سکے، جہاں دل کی وحشت سماجی اصولوں سے آزاد ہو کر ظاہر ہوتی ہے۔
Poetic Usage
شاعر اکثر عرض وحشت کا استعمال روح کے اندر کی افراتفری کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ سکون کے برعکس ہے، اندرونی کشمکش کو نمایاں کرتا ہے۔ یہ بے قابو مناظر اور وحشی دل کی پکار کی تصویریں ابھارتا ہے۔
Closing Insight
عرض وحشت بے قابو جذبات کا جوہر پکڑتا ہے، وحشی دل کی آزادی کی مسلسل تلاش کی یاد دلاتا ہے۔