Meaning of
عرض و طلب
arz-o-talab • अर्ज़-ओ-तलब
Urdu
درخواست اور مطالبہ; التجا اور خواہش
English
request and demand; plea and desire
Hindi
अनुरोध और मांग; प्रार्थना और इच्छा
Origin
Arabic
Nuance
عرض و طلب عاجزی اور تڑپ کا احساس بیدار کرتا ہے۔ اپنی اصل شکل میں، یہ ایک رسمی درخواست یا التجا کو ظاہر کرتا ہے، جس میں اکثر فوری ضرورت یا ضرورت کی چھاپ ہوتی ہے۔ شاعری نے اس فقرے کو دل کی گہری، اکثر ان کہی خواہشات کے اظہار کے لیے اپنایا ہے، سمجھ یا تکمیل کے لیے خاموش پکار۔
Poetic Usage
شاعر 'عرض و طلب' کا استعمال تڑپ کی گہرائی اور انسانی روح کی نزاکت کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر محبت، جدائی اور معنی کی تلاش کے موضوعات کی کھوج کرنے والے اشعار میں ظاہر ہوتا ہے۔
Closing Insight
شاعری کی دنیا میں، 'عرض و طلب' دل کی خاموش پکاروں اور کائنات کی وسیع گونج کے درمیان ایک پل بن جاتا ہے۔