Meaning of

اسیر ذات

aseer-e-zaat • असीर-ए-ज़ात

خود کا قیدی; اپنی ذات کا اسیر

captive of self; prisoner of one's own being

स्वयं का बंदी; अपनी ही सत्ता का कैदी

Persian

اسیر ذات ایک ایسی روح کی تصویر پیش کرتا ہے جو اپنی ہی ذات کی حدود میں قید ہے۔ شاعری میں، یہ خود آگاہی کی جدوجہد اور خود شناسی کی زنجیروں کو ظاہر کرتا ہے جو روح کو جکڑتے ہیں۔

شاعر 'اسیر ذات' کا استعمال اندرونی کشمکش اور قید کے اندر آزادی کے تضاد کی تلاش کے لیے کرتے ہیں۔ اسے اکثر آزادی اور خود شناسی کی جستجو کے ساتھ متضاد طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'اسیر ذات' انسانی وجود کی دوگانگی کو منعکس کرنے والا آئینہ ہے۔ یہ ہمیں اندرونی زنجیروں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔