Meaning of

عذاب گرد خزاں

azaab-e-gard-e-khizaan • अज़ाब-ए-गर्द-ए-ख़िज़ाँ

خزاں کی گرد کا عذاب; موسمی تبدیلی کا دکھ

torment of autumn dust; suffering of seasonal change

पतझड़ की धूल का कष्ट; मौसमी परिवर्तन का दुख

Persian

یہ فقرہ خزاں سے وابستہ اداسی اور ناگزیر زوال کو پکڑتا ہے۔ شاعری میں، یہ تبدیلی کے دکھ اور عارضی حسن کو ظاہر کرتا ہے۔

شاعر اس کا استعمال تبدیلی کی تلخ و شیریں فطرت کو بیدار کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر وقت کے گزرنے اور اس کے ساتھ آنے والے ناگزیر نقصان کی علامت ہے۔

موسموں کے رقص میں، 'عذاب گرد خزاں' عارضی حسن کی سرگوشی کرتا ہے۔