Meaning of
باب ستم
baab-e-sitam • बाब-ए-सितम
Urdu
ستم کا دروازہ; ظلم کا مدخل
English
gate of oppression; entrance to tyranny
Hindi
अत्याचार का द्वार; ज़ुल्म का प्रवेश
Origin
Persian
Nuance
یہ عبارت ظلم و ستم سے بھرے علاقے میں داخلے کی تصاویر کو ابھارتی ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر ان جابرانہ قوتوں کی نمائندگی کرتی ہے جو آزادی کو روک دیتی ہیں اور انسانی روح کو کچل دیتی ہیں۔
Poetic Usage
شاعر 'باب ستم' کا استعمال معاشرتی اور سیاسی ناانصافیوں کی تنقید کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ظلم کے خلاف جدوجہد کے لیے ایک طاقتور استعارہ کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ عبارت اکثر انصاف اور آزادی کے نظریات کے ساتھ تضاد کرتی ہے۔
Closing Insight
شاعری میں، 'باب ستم' ظلم کے خلاف مستقل جدوجہد کا ثبوت ہے۔