Meaning of

بزم

bazme • बज़्मे

محفل; اجتماع; سماجی محفل

gathering; assembly; social gathering

सभा; जमावड़ा; सामाजिक सभा

Persian

مجھے تو ہوش لگ تھا ان کی بزم ہے وہ ہے وہ لیکن
خموشیوں نے مری ان سے کچھ چھوؤں گا کیا

20

Download Image

ہے وہ ہے وہ تجھے بزم ہے وہ ہے وہ لاوں گا مری جان م
گر
لوگ جب دوسرے چہروں پہ فدا ہوں جائیں

51

Download Image

اٹھ کر تو آ گئے ہیں تری بزم سے م
گر
کچھ دل ہی جانتا ہے کہ ک
سے دل سے آئی ہیں

37

Download Image

پھروں نظر ہے وہ ہے وہ پھول مہکے دل ہے وہ ہے وہ پھروں شمعیں جلیں پھروں تصور نے لیا ا
سے بزم ہے وہ ہے وہ جانے کا نام

34

Download Image

ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہیں سوز ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ساز ہیں ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نغمہ
ذرا سنبھل کے سر بزم چھیڑنا ہم کو

26

Download Image

دور ہوں لیکن بتا سکتا ہوں ان کی بزم ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کیا ہوا کیا ہوں رہا ہے اور کیا ہونے کو ہے

25

Download Image

اب کے ا
سے بزم ہے وہ ہے وہ کچھ اپنا پتا بھی دینا
پاؤں پر پاؤں جو رکھنا تو دبا بھی دینا

23

Download Image

تری بغیر غضب بزم دل کا عالم ہے
چراغ سینکڑوں جلتے ہیں روشنی کم ہے

21

Download Image

نہیں ہر چند کسی گم شدہ جنت کی تلاش
اک لگ اک خلد طرب ناک کا ارمان ہے ضرور

بزم دوشنبہ کی حسرت تو نہیں ہے مجھ کو
مری دی ہے وہ ہے وہ کوئی اور متصل ہے ضرور

20

Download Image

ضبط سے چور ہوں گیا تو ہوگا
غم سے معمور ہوں گیا تو ہوگا

بزم احباب چھوڑنے والا
کتنا مجبور ہوں گیا تو ہوگا

20

Download Image

مجھے تو ہوش لگ تھا ان کی بزم ہے وہ ہے وہ لیکن
خموشیوں نے مری ان سے کچھ چھوؤں گا کیا

20

Download Image

ہے وہ ہے وہ تجھے بزم ہے وہ ہے وہ لاوں گا مری جان م
گر
لوگ جب دوسرے چہروں پہ فدا ہوں جائیں

51

Download Image

بزم اصل میں ایک محفل یا اجتماع کی نشاندہی کرتا ہے، جو اکثر سماجی یا جشن کے نوعیت کا ہوتا ہے۔ شاعری میں، یہ میل جول، مشترکہ تجربات اور انسانی تعلق کی گرمی کی تصاویر کو جنم دیتا ہے۔

شاعر 'بزم' کا استعمال اتحاد، جشن اور خوشی کے اجتماعات کی عارضی فطرت کو اجاگر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر تنہائی اور خود شناسی کے برعکس ہوتا ہے۔

بزم ہمیں ساتھ ہونے کی عارضی خوبصورتی کی یاد دلاتا ہے۔ یہ زندگی کے مشترکہ لمحات کا جشن ہے۔