Meaning of

بے نیاز دو جہاں

be-niyaaz-e-do-jahaan • बे-नियाज़-ए-दो-जहाँ

دونوں جہانوں سے بے پرواہ; دنیاوی فکروں سے آزاد

indifferent to both worlds; detached from worldly concerns

दोनों जहानों से बेपरवाह; सांसारिक चिंताओं से मुक्त

Persian

یہ عبارت روحانی بلندی کا احساس دلاتی ہے، جہاں فرد زندگی کی دنیاوی اور مادی فکروں سے بلند ہو جاتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر اندرونی سکون اور اطمینان کی حالت کی علامت ہوتی ہے، جو دنیاوی خواہشات سے بے نیاز ہوتی ہے۔

شاعر اس عبارت کا استعمال کسی کردار کی روحانی بلندی یا بے نیازی کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر دنیاوی خواہش یا تمنا کے برعکس ہوتا ہے۔ یہ الٰہی کے ساتھ ایک روحانی اتحاد کا بھی اشارہ دے سکتا ہے۔

شاعری میں، یہ عبارت روحانی آزادی کے جوہر کو پکڑتی ہے۔ یہ واقعی آزاد ہونے کا کیا مطلب ہے، اس پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔