Meaning of

مکیں

behisht • बहिश्त

جنت; بہشت; مسرت

paradise; heaven; bliss

स्वर्ग; जन्नत; आनंद

Persian

حسین لوگ ا
گر بےوفا نہیں ہوتے
تو ساری دنیا قسم سے مکیں بن جاتی

1

Download Image

سو چاند بھی چمکیںگے تو کیا بات بنےگی
جاناں آئی تو ا
سے رات کی اوقات بنےگی

45

Download Image

باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
کار ج
ہاں دراز ہے اب میرا انتظار کر

32

Download Image

نمکیں گویا کباب ہیں فیکے شراب کے
بوسہ ہے تجھ لباں کا مزے دار چٹپٹا

11

Download Image

کل راہ ہے وہ ہے وہ چمکیںگے تیری روشنی بنکر
یہ مشورے ماں باپ کے بیکار نہیں ہیں

7

Download Image

داغ ہوں گے چہروں پر جن کے لوگ حقیقت سارے
چاند بن کے چمکیںگے روز آسمانوں ہے وہ ہے وہ

4

Download Image

جب طلب ہے مکیں کی تو پھروں
دل کی ک
میاں کیوں نہیں کرتا

4

Download Image

ابلی
سے چنو سجدے ادا کر کے رات دن
چاہت شجر کے دل ہے وہ ہے وہ ہیں دیکھو مکیں کی

3

Download Image

تری بغیر بے شرط نہیں مکیں مجھے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ پل صراط پہ بیٹھا ہوں انتظار ہے وہ ہے وہ ہوں

2

Download Image

یہ شہر آم سا ہی شہر ہے مکیں نہیں
بس اک عزیز رہا کرتا تھا یہاں میرا

2

Download Image

حسین لوگ ا
گر بےوفا نہیں ہوتے
تو ساری دنیا قسم سے مکیں بن جاتی

1

Download Image

سو چاند بھی چمکیںگے تو کیا بات بنےگی
جاناں آئی تو ا
سے رات کی اوقات بنےگی

45

Download Image

بہشت کا لفظ ایک آسمانی جنت کی تصویر پیش کرتا ہے، ایک ایسی جگہ جو حتمی خوشی اور سکون سے بھری ہوئی ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر ناقابل حصول کی علامت ہوتا ہے، ایک ایسا خوابوں کا مقام جو دلکش اور دور دونوں ہوتا ہے۔

شاعر اکثر 'بہشت' کا استعمال ایک کامل دنیا کی خواہش کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ زندگی کی سخت حقیقتوں کے ساتھ متضاد ہوتا ہے، جو حتمی سکون اور تکمیل کی علامت بنتا ہے۔

شاعرانہ دنیا میں، 'بہشت' حتمی خواہش کی علامت بنی رہتی ہے۔ یہ خواہش اور تکمیل کی فطرت پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔