Meaning of

بے قراری

bekaraari • बेकरारी

بے چینی; اضطراب

restlessness; unease

बेचैनी; अस्थिरता

Persian

دکھ درد بے قراری اور الجھن کی خاک سے
جب کچھ لگ بن سکا تو میرا دل بنا دیا

2

Download Image

ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے
ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو جاناں تو سو جاؤ

32

Download Image

ندامت بے قراری ہجر ذلت اور تنہائی
محبت ہے وہ ہے وہ یہی دو چار غم ہر بار ہوتے ہیں

10

Download Image

بے قراری کا عالم لگ پوچھو صنم
ہم کو ہر اک حسین آپ سا ہی لگے

8

Download Image

زخم تاری ہے سان
سے بھاری ہے ا
سے طرح زندگی گزاری ہے
مجھ
پہ حاوی ہے چنو تنہائی اور ہلکی سی بے قراری ہے

6

Download Image

ادا
سے آنکھیں بکھرتے خواب اور بے قراری
بسر ہوئی زندگی کچھ ا
سے طرح سے ہماری

5

Download Image

بے قراری سے بھی زیادہ کچھ
آج کل مجھ کو بے قراری ہے

3

Download Image

مری ہولی دیوالی ہے نہیں
ا
گر حقیقت ہی ہماری ہے نہیں

کہ جاناں آنا بڑے آرام سے
مجھے اب بے قراری ہے نہیں

2

Download Image

دل اور دل کی بے قراری کے لیے
کوئی نہ آیا غم گساری کے لیے

بس تیرگی تھی اور میں تھا دشت میں
پھروں دل جلایا شب گزاری کے لیے

2

Download Image

مسلسل چل رہی ہے انتظاری سال بیتا
رہی دل ہے وہ ہے وہ میسر بے قراری سال بیتا

2

Download Image

دکھ درد بے قراری اور الجھن کی خاک سے
جب کچھ لگ بن سکا تو میرا دل بنا دیا

2

Download Image

ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے
ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو جاناں تو سو جاؤ

32

Download Image

بے قراری اندرونی ہلچل اور بے چینی کی حالت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ادھوری خواہشات اور بے جواب سوالات کے جواب میں دل کا ردعمل ہے۔ شاعری میں، یہ بے چینی اکثر ایک محرک قوت کے طور پر پیش کی جاتی ہے، جو روح کو جواب یا سکون کی تلاش میں دھکیلتی ہے۔

شاعر 'بے قراری' کا استعمال روح کی سکون کی مسلسل تلاش کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ محبت کی ہلچل، جوانی کی بے صبری، یا ایک تلاش کرنے والے کی وجودی پریشانی کو ظاہر کر سکتا ہے۔ یہ لفظ ایک مسلسل حرکت میں دل کے جوہر کو پکڑتا ہے۔

شاعری میں 'بے قراری' بے چین دل کا آئینہ ہے، جو اس کے مسلسل سفر کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ تلاش میں خوبصورتی اور چاہت میں جذبے کی یاد دلاتا ہے۔