Meaning of

حفیظ

hafiz • हफ़ीज़

محافظ; نگہبان; حفاظت کرنے والا

guardian; protector; preserver

रक्षक; संरक्षक; संरक्षित करने वाला

Arabic

خدا نے محافظ بنایا ہے ان کو
ستائیں لگ پھولوں کو خارو سے کہ دو

2

Download Image

اب مجھے مانیں لگ مانیں اے عرو
سے بہار
مانتے ہیں سب مری استاد کو

34

Download Image

ہے وہ ہے وہ نے آباد کیے کتنے ہی ویرانے عرو
سے بہار
زندگی مری اک اجڑی ہوئی محفل ہی صحیح

32

Download Image

عرو
سے بہار اپنی بولی محبت کی بولی
لگ اردو لگ ہم رہی لگ ک
ہے وہ ہے وہ ہے وہ گاہ

32

Download Image

میر کے بعد تاکتے و حفیظ
اک صدا اک ص
گرا ہے وہ ہے وہ گزری ہے

24

Download Image

ہر حقیقت ہے ایک حسن عرو
سے بہار
اور ہر حسن اک حقیقت ہے

18

Download Image

حافظوں کے بڑھ گئے ہیں دیکھ لو رباب اب
کچھ شرابیوں نے بھی کما لیے ثواب اب

16

Download Image

یاد ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

8

Download Image

ربط حفیظ سے میرا ہے لگ ہے میر کے ساتھ
حاضر بزم ہوں ہے وہ ہے وہ اپنی ہی تحریر کے ساتھ

5

Download Image

ڈھونڈتا پھرتا ہوں ہے وہ ہے وہ حفیظ اپنے آپ کو
آپ ہی گویا مسافر آپ ہی منزل ہوں ہے وہ ہے وہ

4

Download Image

خدا نے محافظ بنایا ہے ان کو
ستائیں لگ پھولوں کو خارو سے کہ دو

2

Download Image

اب مجھے مانیں لگ مانیں اے عرو
سے بہار
مانتے ہیں سب مری استاد کو

34

Download Image

حفیظ کا بنیادی معنی محافظ یا نگہبان ہے، جو اکثر الہی حفاظت کے کردار کو بیدار کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ لفظ مادی سے آگے بڑھ کر روحانی اور جذباتی حفاظت کا مظہر بن جاتا ہے۔

شاعر اکثر 'حفیظ' کا استعمال الہی حفاظت اور روحانی نگہبانی کے موضوعات کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ انسانی کمزوری اور محافظ کی ابدی طاقت کے درمیان تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ محبت اور یادداشت کے تحفظ کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'حفیظ' حفاظت اور یادداشت کی پائیدار طاقت کا ثبوت ہے۔ یہ ایک ایسا لفظ ہے جو عارضی کو ابدی سے جوڑتا ہے۔