Meaning of
حریف لب و رخسار
harif-e-lab-o-rukhsaar • हरीफ़-ए-लब-ओ-रुख़सार
Urdu
لب و رخسار کا حریف; حسن میں مقابل
English
rival of lips and cheeks; competitor in beauty
Hindi
होंठों और गालों का प्रतिद्वंद्वी; सुंदरता में प्रतिस्पर्धी
Origin
Persian
Nuance
یہ فقرہ کسی ایسے شخص یا چیز کی تصویر پیش کرتا ہے جو لب و رخسار کی خوبصورتی کا حریف ہو، اکثر کسی محبوب یا خواہش کی چیز کی وضاحت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ شاعری میں، یہ تعریف کی شدت اور حسن کی مقابلہ بازی کی فطرت کو اجاگر کرتا ہے۔
Poetic Usage
شاعر اس فقرے کا استعمال ایک محبوب کے دلکشی کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں، جس کی خوبصورتی اتنی دلکش ہوتی ہے کہ وہ لب و رخسار کی قدرتی دلکشی کو چیلنج کرتی ہے۔ اسے اکثر رومانوی اشعار میں محبوب کی بے مثال خوبصورتی کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
Closing Insight
شاعرانہ تعریف کی دنیا میں، 'حریف لب و رخسار' حسن کے لازوال دلکشی کا ثبوت ہے۔