Meaning of

حشر

hasr • हस्र

قیامت; ہلچل

resurrection; upheaval

पुनरुत्थान; उथल-पुथल

Arabic

اک نئی قسم تلاشی گئی ہے پھولوں کی
مری حسرت ہے اسے نام تمہارا مل جائے

29

Download Image

پیڑ مجھے حسرت سے دیکھا کرتے تھے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ جنگل ہے وہ ہے وہ پانی لایا کرتا تھا

56

Download Image

ہے وہ ہے وہ کیسے مان لوں کہ عشق ب
سے اک بار ہوتا ہے
تجھے جتنی دفع دیکھوں مجھے ہر بار ہوتا ہے

تجھے پانے کی حسرت اور ڈر ناکامیابی کا
انہی دو تین باتوں سے یہ دل دو چار ہوتا ہے

49

Download Image

قتل سے پہلے حقیقت ہر بے وجہ کے دل کی حسرت
پوچھ لیتا تھا م
گر پوری نہیں کرتا تھا

46

Download Image

مجھ کو تجھ سے پیار نہیں تو
پھروں آنسو کیوں باہر نکلے

ب
سے اک ہی آخری حسرت ہے
ہم ب
سے تری بنکر نکلے

39

Download Image

کچھ نظر آتا نہیں ا
سے کے تصور کے سوا
حسرت دیدار نے آنکھوں کو اندھا کر دیا

39

Download Image

آج پھروں دل ہے وہ ہے وہ تری دید کی حسرت جاگی
کاش پھروں کام کوئی تجھ سے ضروری نکلے

38

Download Image

ا
سے کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی لگ سکون
ڈھونڈنے اس کا کو چلا ہوں جسے پا بھی لگ سکون

37

Download Image

حسرت کی بھی قبول ہوں پیغام حیات جاوداں ہے وہ ہے وہ حاضری
سنتے ہیں عاشقوں پہ تمہارا کرم ہے آج

36

Download Image

وہی ہوگا دوبارہ حشر میرا
وہی آنکھیں دوبارہ سامنے ہیں

33

Download Image

اک نئی قسم تلاشی گئی ہے پھولوں کی
مری حسرت ہے اسے نام تمہارا مل جائے

29

Download Image

پیڑ مجھے حسرت سے دیکھا کرتے تھے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ جنگل ہے وہ ہے وہ پانی لایا کرتا تھا

56

Download Image

حشر کا لفظ ایک اختتام اور ایک آغاز دونوں کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ اپنے اصل معنی میں، یہ قیامت کے دن کا حوالہ دیتا ہے، جو حساب کتاب اور تجدید کا وقت ہے۔ شاعری میں، یہ کسی بھی گہرے تبدیلی یا ہلچل کی علامت بن جاتا ہے، جہاں پرانے کو ہٹا کر نئے کے لیے جگہ بنائی جاتی ہے۔

شاعر 'حشر' کا استعمال تباہ کن تبدیلی کی تصویر کشی کے لیے کرتے ہیں۔ اس کا استعمال اکثر ذاتی یا معاشرتی ہلچل کو بیان کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ لفظ تباہی اور دوبارہ جنم کے موضوعات کے ساتھ گونجتا ہے، جو وجود کی چکرواتی فطرت کو پکڑتا ہے۔

شاعری میں، 'حشر' زندگی کے ناگزیر چکروں کے لیے ایک طاقتور استعارہ کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر اختتام کے ساتھ ایک نئی شروعات کا وعدہ آتا ہے۔