Meaning of

ہوس نظارہ یار

hawas-e-nazaara-e-yaar • हवस-ए-नज़ारा-ए-यार

یار کے دیدار کی خواہش; تڑپتی نظر

desire to behold the beloved; longing gaze

प्रिय के दर्शन की लालसा; तड़पती नज़र

Persian

’ہوس نظارہ یار‘ کا فقرہ محبوب کے دیدار کی شدید خواہش کو مجسم کرتا ہے، ایک ایسی تڑپ جو محض جسمانی نظر سے آگے بڑھتی ہے۔ شاعری میں، یہ خواہش کی گہرائی اور وصال کی بے چین تلاش کو ظاہر کرتا ہے۔

شاعر 'ہوس نظارہ یار' کا استعمال عاشقوں کی گہری خواہش اور جذباتی ہلچل کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ اس کا اکثر سکون کی تکمیل کے ساتھ تضاد کیا جاتا ہے، جو خواہش اور حصول کے درمیان تناؤ کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری میں، 'ہوس نظارہ یار' خواہش کی پائیدار طاقت کا ثبوت ہے، دل کی ابدی تلاش کی یاد دہانی ہے۔