Meaning of

جان دو عالم

jaan-e-do-aalam • जान-ए-दो-आलम

دونوں جہانوں کی جان; کائنات کا محبوب

essence of both worlds; beloved of the universe

दोनों जहानों का सार; ब्रह्मांड का प्रिय

Persian

اپنے اصل معنی میں، 'جان دو عالم' کسی ایسی ہستی یا چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے جو دنیاوی اور روحانی دونوں جہانوں کا جوہر ہو۔ شاعری میں، یہ فقرہ اکثر محبوب کو دنیاوی اور الہی کے درمیان ایک پل کے طور پر پیش کرتا ہے، ایک انتہائی اہمیت اور خوبصورتی کی علامت۔

شاعر 'جان دو عالم' کا استعمال گہرے عشق اور تعریف کے اظہار کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر ان اشعار میں ظاہر ہوتا ہے جو الہی محبت، روحانی تڑپ، اور محبوب کی ماورائیت کے موضوعات کو تلاش کرتے ہیں۔ یہ فقرہ دنیاوی تعلقات کے برعکس بھی ہو سکتا ہے، محبوب کی منفرد حیثیت کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری میں، 'جان دو عالم' حتمی محبت اور تعلق کی علامت بن جاتا ہے، جو دنیاوی اور الہی حدود کو عبور کرتا ہے۔