Meaning of

جبر

jabar • जबर

جبر; دباؤ

compulsion; coercion

विवशता; दबाव

Arabic

عشق کے معیار ظرف نے ڈھایا ہے جو قہر
زیست و قضا کے زیر زبر ختم ہوئے

1

Download Image

یہ بھی تو جبر سمے ہے تو مجھے یاد بھی نہیں
چنو سنبھل گئے ہوں جاناں ویسے سنبھل گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ

30

Download Image

مجھ سے کہا جبریل جنوں نے یہ بھی وحی الہی ہے
مذہب تو ب
سے مذہب دل ہے باقی سب گمراہی ہے

23

Download Image

یہ جبر بھی دیکھا ہے پوچھوں کی دی نے
لمحوں نے غلطیاں کی تھی صدیوں نے سزا پائی

22

Download Image

مجھے پسند نہیں ایسے کاروبار ہے وہ ہے وہ ہوں
یہ جبر ہے کہ ہے وہ ہے وہ خود اپنے اختیار ہے وہ ہے وہ ہوں

18

Download Image

زبر دستی نہیں ہے یار لیکن
چلے آؤ بڑا اچھا لگے گا

3

Download Image

ہے وصل غم سے تو خوشی سے ہجر ہے
سہتی قف
سے ہے وہ ہے وہ جبر مری زندگی

3

Download Image

نئی سڑکیں بچھانا چاہتے تھے
بگیچا کاٹ خا
لگ چاہتے تھے

زبر دستی رہائی مل رہی ہے
ا
نہیں جو قیدخا
لگ چاہتے تھے

ک
ہاں آ کر گردشیں ہیں دیکھیے نا
ک
ہاں تک ساتھ جانا چاہتے تھے

2

Download Image

ہر دھڑکن دھڑک کر کہ رہی ہے
ب
سے جبرن گھٹن یہ سہ رہی ہے

2

Download Image

کیجے فرعون سے شداد سے عبرت حاصل
زیر یہ ہوں گئے سارے جو زبر جانا ہے

2

Download Image

عشق کے معیار ظرف نے ڈھایا ہے جو قہر
زیست و قضا کے زیر زبر ختم ہوئے

1

Download Image

یہ بھی تو جبر سمے ہے تو مجھے یاد بھی نہیں
چنو سنبھل گئے ہوں جاناں ویسے سنبھل گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ

30

Download Image

جبر ایک ایسی کیفیت کو بیان کرتا ہے جس میں انسان کو اپنی مرضی کے خلاف عمل کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر اندرونی اور بیرونی جابرانہ قوتوں کے خلاف جدوجہد کی علامت ہوتا ہے۔

شاعر 'جبر' کا استعمال مزاحمت اور تسلیم کے موضوعات کی تلاش کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر آزادی کے ساتھ متضاد ہوتا ہے، انتخاب اور پابندی کے درمیان تناؤ کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری میں جبر انسانی روح کی استقامت کی یاد دہانی ہے، چاہے وہ سب سے سخت پابندیوں کا سامنا کر رہا ہو۔