Meaning of

جشن

jashne • जश्ने

تقریب; جشن

celebration; festivity

उत्सव; पर्व

Persian

یہ آزا
گرا کا کیسا جشن ہے بھارت
ج
ہاں بچے تری بھوکے سو جاتے ہیں

4

Download Image

گمان ہے یا کسی وشوا
سے ہے وہ ہے وہ ہے
سبھی اچھے دنوں کی آ
سے ہے وہ ہے وہ ہے

یہ کیسا جشن ہے گھر واپسی کا
ابھی تو رام ہی ونوا
سے ہے وہ ہے وہ ہے

66

Download Image

جیت ہوں جشن مقدر ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ٹھیک سے دیکھ سکندر ہوں ہے وہ ہے وہ

38

Download Image

محفل ہے وہ ہے وہ تیری یوں ہی رہے جشن چراغاں
آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہی یہ رات گزر جائے تو اچھا

37

Download Image

پھروں ا
سے کے بعد منایا لگ جشن خوشبو کا
لہو ہے وہ ہے وہ ڈوبی تھی فصل بہار کیا کرتے

35

Download Image

دلہن بنی ہوئی ہیں راہیں
جشن مناؤ سال نو کے

23

Download Image

ک
سے کی ہولی جشن نو روزی ہے آج
سرخ مے سے ساقیا دستار رنگ

19

Download Image

کر دیا قربان اک خواہش میاں
دشمن جاں اب مناؤ جشن جاناں

11

Download Image

کہ اک اینٹ اور گر گئی زندگی کی
نئے سال کے جشن ہے وہ ہے وہ ڈوبے ہیں سب

9

Download Image

خبر مری چلے جانے کی سب کو مل گئی ہوں گی
کسی کا جشن ہوگا اب کوئی ماتم منائےگا

5

Download Image

یہ آزا
گرا کا کیسا جشن ہے بھارت
ج
ہاں بچے تری بھوکے سو جاتے ہیں

4

Download Image

گمان ہے یا کسی وشوا
سے ہے وہ ہے وہ ہے
سبھی اچھے دنوں کی آ
سے ہے وہ ہے وہ ہے

یہ کیسا جشن ہے گھر واپسی کا
ابھی تو رام ہی ونوا
سے ہے وہ ہے وہ ہے

66

Download Image

اپنے اصل معنی میں، 'جشن' خوشی اور اجتماعی اجتماع کی تصاویر کو جنم دیتا ہے، ایک وقت جب دل ہلکے اور روحیں بلند ہوتی ہیں۔ شاعری نے اس لفظ کو نہ صرف جشن کے جسمانی عمل کو بلکہ اندرونی خوشی اور خوشی کی عارضی نوعیت کو بھی ظاہر کرنے کے لئے اپنایا ہے۔

شاعر اکثر 'جشن' کا استعمال رنگین اجتماعات کے مناظر کو پینٹ کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ خوشی کی عارضی نوعیت کی علامت ہو سکتا ہے۔ یہ تنہائی کے برعکس، یکجہتی کی گرمی کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری میں، 'جشن' زندگی کی عارضی خوشیوں کا استعارہ بن جاتا ہے، مشترکہ لمحات کی خوبصورتی کی یاد دہانی کراتا ہے۔