Meaning of

جذب

jazzab • जज़्ब

کشش; جذب

attraction; absorption

आकर्षण; अवशोषण

Arabic

جذبہ دل ک
ہاں بدلتا ہے
ہوں دل سخت کون چلتا ہے

دیکھ کر حسن یہ دل ناداں
پیار کے واسطے مچلتا ہے

10

Download Image

لڑ سکو دنیا سے جذبوں ہے وہ ہے وہ حقیقت شدت چاہیے
عشق کرنے کے لیے اتنی تو ہمت چاہیے

کم سے کم ہے وہ ہے وہ نے چھپا لی دیکھ کر سگریٹ تمہیں
اور ا
سے لڑکے سے جاناں کو کتنی عزت چاہیے

82

Download Image

سب کر لینا لمحے ضائع مت کرنا
غلط جگہ پر جذبے ضائع مت کرنا

81

Download Image

ب
سے محبت ب
سے محبت ب
سے محبت جان من
باقی سب جذبات کا اظہار کم کر دیجیے

52

Download Image

ا
سے دودمان جذب ہوں گئے دونوں
درد کھینچوں تو دل نکل آئی

43

Download Image

ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی
جذبات ہے وہ ہے وہ حقیقت پہلی سی شدت نہیں رہی

33

Download Image

کتنا دشوار ہے جذبوں کی تجارت کرنا
ایک ہی بے وجہ سے دو بار محبت کرنا

ج
سے کو جاناں چاہو کوئی اور لگ چاہے ا
سے کو
ا
سے کو کہتے ہیں محبت ہے وہ ہے وہ سیاست کرنا

31

Download Image

اے جذبہ دل گر ہے وہ ہے وہ چا
ہوں ہر چیز مقابل آ جائے
منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے

22

Download Image

جذبوں کو کبھی اپنے منجملہ و اسباب ماتم نہیں کرتے
قاتل کی طرح خود کو تیار نہیں کرتے

چھپ چھپ کے یوں کرتے ہیں باتیں جو ناتے کی
حاضر ہے میرا سینا پر وار نہیں کرتے

13

Download Image

گھا
سے ہے وہ ہے وہ جذب ہوئے ہوں گے ز
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کے آنسو
پاؤں رکھتا ہوں تو ہلکی سی نمی لگتی ہے

12

Download Image

جذبہ دل ک
ہاں بدلتا ہے
ہوں دل سخت کون چلتا ہے

دیکھ کر حسن یہ دل ناداں
پیار کے واسطے مچلتا ہے

10

Download Image

لڑ سکو دنیا سے جذبوں ہے وہ ہے وہ حقیقت شدت چاہیے
عشق کرنے کے لیے اتنی تو ہمت چاہیے

کم سے کم ہے وہ ہے وہ نے چھپا لی دیکھ کر سگریٹ تمہیں
اور ا
سے لڑکے سے جاناں کو کتنی عزت چاہیے

82

Download Image

اپنی اصل میں، 'جذب' کا مطلب ہے کسی چیز کو اپنی طرف کھینچنا یا جذب کرنا، چاہے وہ جسمانی ہو یا جذباتی۔ شاعری میں، یہ لفظ جذبات کی مقناطیسی کشش، محبت کی ناقابل مزاحمت کھینچ، یا حسن یا غم میں گہرے جذب کو شامل کرتا ہے۔

شاعر 'جذب' کا استعمال اکثر محبوب کی دلکشی، جذبے کی کھا جانے والی فطرت، یا حسن کے لمحے میں گہرے غوطے کا بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ان الفاظ کے برعکس ہے جو نفرت یا علیحدگی کا اشارہ دیتے ہیں۔

شاعری میں، 'جذب' ناقابل مزاحمت کشش اور گہرے جذباتی عمق کا جوہر پکڑتا ہے۔