Meaning of
جگر سوختہ
jigar-e-sokhta • जिगर-ए-सोख़्ता
Urdu
جلا ہوا جگر; گہرا غم
English
burnt liver; deep sorrow
Hindi
जला हुआ जिगर; गहरी पीड़ा
Origin
Persian
Nuance
یہ فقرہ ایک شدید جذباتی حالت کو ظاہر کرتا ہے، جہاں جگر، جو بہادری اور جذبے کی علامت ہے، استعارہ کے طور پر جلا ہوا ہے۔ شاعری میں، یہ غم اور آرزو کی گہرائی کو پکڑتا ہے، جو اکثر نامکمل خواہشات یا کھوئے ہوئے محبت سے منسلک ہوتا ہے۔
Poetic Usage
شاعر اس فقرے کا استعمال اپنی جذباتی ہلچل کی گہرائی کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر دل ٹوٹنے، آرزو اور وجودی مایوسی کے موضوعات کی تلاش کرنے والے اشعار میں ظاہر ہوتا ہے۔
Closing Insight
جگر سوختہ ایک مضطرب دل کے جوہر کو پکڑتا ہے، جو شاعرانہ اظہار کی پائیدار طاقت کا ثبوت ہے۔