Meaning of

کاغذ

kaagaz • काग़ज़

کاغذ; دستاویز

paper; document

कागज़; दस्तावेज़

Persian

ج
سے پر ہماری آنکھ نے اندھیرا بچھائے رات بھر
بھیجا وہی کاغذ اسے ہم نے لکھا کچھ بھی نہیں

43

Download Image

کورے کاغذ پر رو رہے ہوں جاناں
ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو سمجھا معیار لکھے ہوں جاناں

کیا کہا مجھ سے دور جانا ہے
ا
سے زار ہے جا چکے ہوں جاناں

114

Download Image

ہے وہ ہے وہ کہ کاغذ کی ایک کشتی ہوں
پہلی بارش ہی آخری ہے مجھے

94

Download Image

چاند سا مصرعہ اکیلا ہے مری کاغذ پر
چھت پہ آ جاؤ میرا شعر مکمل کر دو

76

Download Image

اک اور کتاب ختم کی پھروں ا
سے کو پھاڑ کر
کاغذ کا اک جہاز بنایا خوشی ہوئی

57

Download Image

کاغذ ہے وہ ہے وہ دب کے مر گئے کیڑے کتاب کے
دیوا
لگ بے پڑھے لکھے مشہور ہوں گیا تو

56

Download Image

مجھ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کاغذ نکالنے والوں
اور کچھ ہوگا بھی نہیں جاناں سے

53

Download Image

ہے وہ ہے وہ نے کل شب چاہتوں کی سب کتابیں پھاڑ دیں
صرف اک کاغذ پہ لکھا لفظ ماں رہنے دیا

52

Download Image

آندھیوں سے لڑ رہے ہیں جنگ کچھ کاغذ کے لوگ
ہم پہ لازم ہے کہ ان لوگوں کو فولا
گرا کہی

52

Download Image

ہے وہ ہے وہ ہوں پتنگ کاغذی ڈور ہے ا
سے کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ
چاہا ادھر گھٹا دیا چاہا ادھر بڑھا دیا

43

Download Image

ج
سے پر ہماری آنکھ نے اندھیرا بچھائے رات بھر
بھیجا وہی کاغذ اسے ہم نے لکھا کچھ بھی نہیں

43

Download Image

کورے کاغذ پر رو رہے ہوں جاناں
ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو سمجھا معیار لکھے ہوں جاناں

کیا کہا مجھ سے دور جانا ہے
ا
سے زار ہے جا چکے ہوں جاناں

114

Download Image

'کاغذ' لفظ تحریری اظہار کا بوجھ اٹھاتا ہے، ایک وسیلہ جس کے ذریعے خیالات اور خواب شکل اختیار کرتے ہیں۔ شاعری میں، یہ تخلیقی صلاحیت اور نازکی کی علامت بن جاتا ہے، جہاں جذبات کی سیاہی زندگی کے کینوس پر ایک ناقابل مٹ نشان چھوڑتی ہے۔

شعراء اکثر 'کاغذ' کا استعمال یادداشت اور ناپائیداری کے موضوعات کو دریافت کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ انسانی کوششوں کی نازکی یا تحریری الفاظ کی مستقل مزاجی کی علامت ہو سکتا ہے۔ 'پتر' کے برعکس، جو ایک خط کا حوالہ دے سکتا ہے، 'کاغذ' تحریری اظہار کے وسیع تر دائرے کو گھیرے ہوئے ہے۔

شاعر کے ہاتھوں میں، 'کاغذ' محض کاغذ سے زیادہ بن جاتا ہے؛ یہ خوابوں کا وسیلہ اور وقت کی سرگوشیوں کا محافظ ہے۔