Meaning of

کاجل

kaazal • काज़ल

کاجل; آئی لائنر; کاجل

kohl; eyeliner; soot

काजल; आईलाइनर; कालिख

Sanskrit

لڑ
کیوں کے دکھ غضب ہوتے ہیں سکھ ا
سے سے عجیب
ہن
سے رہی ہیں اور کاجل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

25

Download Image

جاناں نے جب سے اپنی پلکوں پر رکھا
کالخ کو سب کاجل کاجل کہتے ہیں
عشق ہے وہ ہے وہ پاگل ہی تو ہونا ہوتا ہے
پاگل ہیں جو مجھ کو پاگل کہتے ہیں

63

Download Image

جب سے ا
سے نے نمہ آنکھوں ہے وہ ہے وہ کاجل پہنا ہے
ا
سے رادھا پیاری نے مجھ کو موہن کہنا ہے

62

Download Image

کھینچی جو ا
سے نے آنکھ ہے وہ ہے وہ کاجل کی اک لکیر
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی اپنے سینے پہ اک ہاتھ رکھ لیا

57

Download Image

تمہارے اندر چھپی ہوئی اک حسین لڑکی
ذرا سے کاجل ذرا سی لالی سے مل گئی ہے

49

Download Image

جاناں نے جب سے اپنی پلکوں پر رکھا
کالخ کو سب کاجل کاجل کہتے ہیں

47

Download Image

جو جاناں بیٹھا لو آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ بیٹھوں پھروں کاجل بنکے

ساڑی سا پہنو مجھ کو جاناں
تب لہروں ہے وہ ہے وہ آنچل بنکے

38

Download Image

آنکھوں سے آنسو چل نکلے
پنو پر پھروں کاجل بکھرے

سارے کے سارے گیانی تھے
ب
سے ہم ہی تھے پاگل نکلے

38

Download Image

پا
سے جب تک حقیقت رہے درد تھما رہتا ہے
پھیلتا جاتا ہے پھروں آنکھ کے کاجل کی طرح

34

Download Image

تمہارا کام اتنا ہے کہ ب
سے کاجل لگا لینا
تمہاری آنکھ کی خاطر نظارے ہے وہ ہے وہ بناؤں گا

26

Download Image

لڑ
کیوں کے دکھ غضب ہوتے ہیں سکھ ا
سے سے عجیب
ہن
سے رہی ہیں اور کاجل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

25

Download Image

جاناں نے جب سے اپنی پلکوں پر رکھا
کالخ کو سب کاجل کاجل کہتے ہیں
عشق ہے وہ ہے وہ پاگل ہی تو ہونا ہوتا ہے
پاگل ہیں جو مجھ کو پاگل کہتے ہیں

63

Download Image

کاجل اصل میں آنکھوں پر لگائے جانے والے گہرے کاسمیٹک کا حوالہ دیتا ہے۔ شاعری میں، یہ خوبصورتی اور دلکشی کی علامت ہے، اکثر محبوب کی نظر میں پائی جانے والی گہرائی اور راز کو بیدار کرتا ہے۔

شاعر 'کاجل' کا استعمال آنکھوں کی دلکش طاقت اور ان میں چھپے رازوں کو بیدار کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ خوبصورتی کی دلکشی اور چھپی ہوئی جذبات کی سائے دونوں کی نمائندگی کر سکتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'کاجل' آنکھوں کو راز اور دلکشی کے رنگوں سے رنگ دیتا ہے۔