Meaning of

کرب

karbe • कर्बे

دکھ; تکلیف

anguish; distress

पीड़ा; कष्ट

Arabic

دیر تک کوئی بھی ٹکتا یوں گنگناتی نہیں
چار سو پھیلی ہوئی ہے کربلا کی روشنی

2

Download Image

منہافق دوستوں سے لاکھ بہتر ہیں خدا دشمن
کہ کربل نوابوں سے حکومت چھین لیتی ہے

58

Download Image

جیت ہوتی ہی نہیں ہے سچ کی اب
پوری دنیا بن گئی ہے کربلا

30

Download Image

مکہ گیا تو مدی
لگ گیا تو کربلا گیا تو
جیسا گیا تو تھا ویسا ہی چل پھروں کے آ گیا تو

23

Download Image

تمہیں منظر کا ہوں جائے اگر اتنا بھی اندازہ
زمین اے کربلا پر پھروں تو ماتھا چل کر دوگے جاناں

5

Download Image

ہر نف
سے آتی ہے اک مانو
سے سی خوشبو مجھے
کیا مری اطراف ہے وہ ہے وہ تیری ہوا ہے کربلا

3

Download Image

نقص ہوں لگ سکے کرب جب پھیر بدل سے
غزل کے شعر اترتے ہے آسمانوں سے

2

Download Image

کربل کی ز
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے یہ شہادت کی ز
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے
مانو یا لگ مانو یہ عبادت کی ز
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے

2

Download Image

اچھی اتنی بھی تو عیاری نہیں ہوتی ہے
پھروں اپنی ماٹی سے کربل نہیں ہوتی ہے

2

Download Image

کرب سے ہی کوئی رشتہ ہے پرانا
خواب دے جاتے نیا پھروں اک بہانا

2

Download Image

دیر تک کوئی بھی ٹکتا یوں گنگناتی نہیں
چار سو پھیلی ہوئی ہے کربلا کی روشنی

2

Download Image

منہافق دوستوں سے لاکھ بہتر ہیں خدا دشمن
کہ کربل نوابوں سے حکومت چھین لیتی ہے

58

Download Image

کرب کا لفظ اندرونی ہلچل اور تکلیف کی گہری احساس کو بیدار کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر دل کی خاموش چیخوں کی نمائندگی کرتا ہے، وہ ان کہی تکلیف جو روح میں بسی رہتی ہے۔ یہ انسانی کمزوری اور زندگی کی ناگزیر جدوجہد کے جوہر کو پکڑتا ہے۔

شاعر 'کرب' کا استعمال دل شکستگی اور وجودی مایوسی کے موضوعات کو دریافت کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ اکثر عارضی خوشی کے لمحات کے ساتھ متضاد ہوتا ہے، جو خوشی کی عارضی نوعیت کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ لفظ انسانی جذبات کی گہرائی کی یاد دلاتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'کرب' انسانی تکلیف اور برداشت کی گہری گہرائیوں کا ثبوت ہے۔