Meaning of

خسارہ

khasaara • ख़सारा

نقصان; خسارہ

loss; deficit

हानि; घाटा

Arabic

زہر کھا کھا کر گزارا کر رہے ہیں آجکل
زندگی تجھ سے کنارہ کر رہے ہیں آجکل

تو بے حد ہی دلنشین ہے مہجبین ہے تو م
گر
تجھ کو اپنا کر خسارہ کر رہے ہیں آجکل

4

Download Image

سنو کہ اب ہم گلاب دیں گے گلاب لیںگے
محبتوں ہے وہ ہے وہ کوئی خسارہ نہیں چلے گا

47

Download Image

تیری ہر بات محبت ہے وہ ہے وہ بے شرط کر کے
دل کے بازار ہے وہ ہے وہ بیٹھے ہیں خسارہ کر کے

آسمانوں کی طرف پھینک دیا ہے ہے وہ ہے وہ نے
چند مٹی کے چراغوں کو ستارہ کر کے

42

Download Image

لوگ کہتے ہیں کہ ا
سے کھیل ہے وہ ہے وہ سر جاتے ہیں
عشق ہے وہ ہے وہ اتنا خسارہ ہے تو گھر جاتے ہیں

39

Download Image

بچھتی نہیں پلکیں ج
ہاں اپنا تمہارا ہوتا ہے
इच्छाएँ جب جب بڑھتی ہیں تب تب خسارہ ہوتا ہے

11

Download Image

خالی پن ہے وہ ہے وہ کام ہمارا فکر تمہاری ذکر تمہارا
گزرا سمے اسی ہے وہ ہے وہ سارا فکر تمہاری ذکر تمہارا

تاکتے نے کیا خوب کہا تھا عشق سنگ و خشت کر ڈالے گا
ا
سے دھندے ہے وہ ہے وہ صرف خسارہ فکر تمہاری ذکر تمہارا

7

Download Image

کیا ہے عشق تو ا
سے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ منافع کیا خسارہ کیا
فقط ہم تو اسے انعام کا عنوان دیتے ہیں

5

Download Image

ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ عشق ا
سے سے اب دوبارہ تو نہیں ہوگا
محبت ہے وہ ہے وہ ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں سے خسارہ تو نہیں ہوگا

کیا برباد جی بھر کے محبت نے ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھشیک
مگر پھروں بھی محبت سے کنارہ تو نہیں ہوگا

5

Download Image

خود کا ہم کتنا خسارہ کرتے
ہم ا
گر عشق دوبارہ کرتے

مڑ کے گر جاناں نے جو دیکھا ہوتا
رکنے کا ہم بھی اشارہ کرتے

5

Download Image

تمہاری بے وفائی کو خسارہ ہم نہیں کرتے
تمہیں جب دیکھتے ہیں تو اشارہ ہم نہیں کرتے

4

Download Image

زہر کھا کھا کر گزارا کر رہے ہیں آجکل
زندگی تجھ سے کنارہ کر رہے ہیں آجکل

تو بے حد ہی دلنشین ہے مہجبین ہے تو م
گر
تجھ کو اپنا کر خسارہ کر رہے ہیں آجکل

4

Download Image

سنو کہ اب ہم گلاب دیں گے گلاب لیںگے
محبتوں ہے وہ ہے وہ کوئی خسارہ نہیں چلے گا

47

Download Image

اپنے اصل معنی میں، 'خسارہ' ایک ٹھوس نقصان یا خسارے کا تصور پیش کرتا ہے، اکثر مالیاتی تناظر میں۔ تاہم، شاعری میں یہ لفظ اپنے لغوی معنی سے آگے بڑھ کر جذباتی یا وجودی نقصان کے گہرے احساس کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ نامکمل خواہشات کے سبب چھوڑے گئے خلا یا کھوئے ہوئے مواقع کے غم کو پکڑتا ہے۔

شاعر اکثر 'خسارہ' کا استعمال دل کے غیر محسوس نقصانات کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ محبت کے ماند پڑ جانے کے بعد کی خالی پن، ضائع وقت کے پچھتاوے، یا نامکمل خوابوں کی اداسی کی علامت ہو سکتا ہے۔ یہ لفظ مادی فائدے کے برعکس ہے، جذباتی تجربے کی دولت کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری میں، 'خسارہ' روح کی گہری خالی جگہوں کا عکس بن جاتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تمام نقصانات نظر نہیں آتے، پھر بھی وہ ہمارے اندرونی دنیا کو گہرائی سے تشکیل دیتے ہیں۔