Meaning of
خوف مسلسل
khauf-e-musalsal • ख़ौफ़-ए-मुसलसल
Urdu
مسلسل خوف; دائمی ڈر
English
continuous fear; perpetual dread
Hindi
लगातार भय; निरंतर डर
Origin
Arabic
Nuance
یہ فقرہ ایک نہ ختم ہونے والی بے چینی کا احساس پیدا کرتا ہے، جو زندگی کے ہر لمحے پر ایک سایہ کی طرح منڈلاتا ہے۔ شاعری میں، یہ ایک مسلسل بے چینی کے جوہر کو پکڑتا ہے، جو ہر لمحے کو ایک خوف کی چھایا سے رنگ دیتا ہے۔
Poetic Usage
شاعر اکثر اس فقرے کا استعمال خوف کی مسلسل نوعیت کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ اس کا استعمال ایک ایسی ذہنی حالت کو بیان کرنے کے لیے کیا جاتا ہے جہاں سکون نایاب ہوتا ہے اور ہر خیال فکر سے رنگا ہوتا ہے۔
Closing Insight
شاعری کی دنیا میں، 'خوف مسلسل' ایک بھوتیا نغمہ بن جاتا ہے، سکون کی نازکی کی یاد دلاتا ہے۔