Meaning of
خوف صیاد
khauf-e-sayyaad • ख़ौफ़-ए-सय्याद
Urdu
شکاری کا خوف; پکڑنے والے کا ڈر
English
fear of the hunter; dread of the captor
Hindi
शिकारी का डर; पकड़ने वाले का भय
Origin
Arabic
Nuance
یہ فقرہ غیر محفوظی اور قریب آتے خطرے کے احساس کو بیدار کرتا ہے، شکار اور شکاری کے درمیان تناؤ کو پکڑتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر کسی غالب قوت کے ذریعے پھنسنے یا مغلوب ہونے کے خوف کی علامت ہوتا ہے۔
Poetic Usage
شاعر اس فقرے کا استعمال پھنسنے اور وجودی خوف کے موضوعات کی تلاش کے لئے کرتے ہیں۔ یہ سماجی دباؤ یا داخلی تنازعات کے خلاف ذاتی جدوجہد کی عکاسی کر سکتا ہے۔ شکاری اور شکار کی تصویر زندگی کی بے رحم چیلنجوں کے لئے ایک طاقتور استعارہ ہے۔
Closing Insight
شکاری اور شکار کے درمیان رقص میں، پکڑنے کا خوف ذاتی اور عالمی تجربہ دونوں ہے۔