Meaning of
خوف سنان و سیف
khauf-e-sinaan-o-saif • ख़ौफ़-ए-सिनान-ओ-सैफ
Urdu
نیزے اور تلوار کا خوف; جنگ کا ڈر
English
fear of spear and sword; dread of battle
Hindi
भाले और तलवार का भय; युद्ध का डर
Origin
Arabic
Nuance
یہ فقرہ جنگ اور تصادم سے وابستہ ابتدائی خوف کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر داخلی اور خارجی لڑائیوں کی علامت ہوتا ہے، جن کا سامنا کرنے کے لیے درکار حوصلے کو اجاگر کرتا ہے۔
Poetic Usage
شاعر اس کا استعمال بہادری، تصادم اور انسانی حالت کے موضوعات میں گہرائی سے جانے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ امن کے برعکس ہوتا ہے، اپنے خوف کا سامنا کرنے میں ہلچل اور بہادری پر زور دیتا ہے۔
Closing Insight
زندگی کی لڑائیوں اور ان کے لائے ہوئے خوف کا سامنا کرنے کے لیے درکار حوصلے پر غور و فکر۔