Meaning of
خیال ستم زدہ
khayal'-e-sitam-zada • ख़याल'-ए-सितम-ज़दा
Urdu
ستم زدہ کا خیال; دکھ پر غور
English
thought of the oppressed; reflection on suffering
Hindi
पीड़ित का विचार; कष्ट पर चिंतन
Origin
Persian
Nuance
'خیال ستم زدہ' مظلوموں کی حالت زار پر گہری غور و فکر کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ہمدردی کا بوجھ اور ان لوگوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ شاعری میں، یہ ان لوگوں کی آنکھوں سے دنیا کو دیکھنے کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے جو مشکلات سے دوچار ہیں۔
Poetic Usage
شاعر 'خیال ستم زدہ' کو سماجی ناانصافیوں کو اجاگر کرنے اور ہمدردی پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ پسماندہ کمیونٹیوں کی خاموش تکلیف کی طرف توجہ دلانے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔
Closing Insight
شاعری میں، 'خیال ستم زدہ' دنیا کی خاموش چیخوں کو منعکس کرنے والا آئینہ بن جاتا ہے۔