Meaning of

خطاب

khitaab • ख़िताब

پتہ; عنوان; تقریر

address; title; speech

पता; शीर्षक; भाषण

Arabic

ہے عشق تجھ کو گر تو یہ فکر ج
ہاں کو چھوڑ
سنیوکیتا کو جیت کے لا تو خطاب ہے وہ ہے وہ

0

Download Image

لگ صرف یہ کہ جہنم خطاب ہے وہ ہے وہ بھی نہیں
علی کے ماننے والوں کے خواب ہے وہ ہے وہ بھی نہیں

28

Download Image

نہیں عتاب زما
لگ خطاب کے قابل
ترا جواب یہی ہے کہ مسکرائے جا

21

Download Image

ا
سے ایک چہرے پر رفیق صبح کا خطاب ہے
زبین ہے آسمان اور بندیا آفتاب ہے

2

Download Image

پہلے زندگی کے جاناں عذاب دیکھو
پھروں گر چاہو تو ا
سے کے خطاب دیکھو

2

Download Image

لوگ کیا کیا بلا رہے ہم کو
یہ وفا اک خطاب کی سی ہے

2

Download Image

مانا تری خطاب کے قابل نہیں ہیں ہم
پھروں بھی تو یہ غصہ ہے جاہل نہیں ہیں ہم

2

Download Image

پہلے زندگی کے جاناں عذاب دیکھو
پھروں گر چاہو تو ا
سے کے خطاب دیکھو

1

Download Image

مری موت اور مری سزا کے نئے حساب بدل رہا
یا خدا سوال کے طرز پہ ہی سبھی جواب بدل رہا

ی
ہاں دیکھیے میرا زوم اور ہزار تخت کی طاقتیں
و
ہاں دیکھیے میرا اک گناہ سبھی خطاب بدل رہا

0

Download Image

ہے عشق تجھ کو گر تو یہ فکر ج
ہاں کو چھوڑ
سنیوکیتا کو جیت کے لا تو خطاب ہے وہ ہے وہ

0

Download Image

لگ صرف یہ کہ جہنم خطاب ہے وہ ہے وہ بھی نہیں
علی کے ماننے والوں کے خواب ہے وہ ہے وہ بھی نہیں

28

Download Image

خطاب اصل میں ایک پتہ یا تقریر کو ظاہر کرتا ہے، جو رسمی مواصلات کا ایک طریقہ ہے۔ شاعری میں، یہ بولنے والے اور سننے والے کے درمیان ایک پل بن جاتا ہے، جو اکثر ان کہی جذبات اور خیالات کا بوجھ اٹھاتا ہے۔

شاعر 'خطاب' کا استعمال ان پیغامات کو ظاہر کرنے کے لئے کرتے ہیں جو عام تقریر سے آگے ہوتے ہیں۔ یہ دلوں کے درمیان ایک خاموش مکالمہ، روح کی پکار، یا گہری سچائیوں کا اظہار ہو سکتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'خطاب' ان کہی کے لئے ایک وسیلہ بن جاتا ہے، دل کی گہری خواہشات کی آواز۔