Meaning of

خوگر ظلم

khugar-e-zulm • ख़ूगर-ए-ज़ुल्म

ظلم کا عادی; جبر کا خوگر

habitual of oppression; accustomed to tyranny

अत्याचार का अभ्यस्त; ज़ुल्म का आदी

Persian

یہ فقرہ اس شخص کے احساس کو ظاہر کرتا ہے جو ظلم کا اتنا عادی ہو گیا ہے کہ یہ اس کی فطرت کا حصہ بن گیا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر تکلیف کے اندرونی احساس اور سخت حقیقتوں کے معمول بن جانے کو ظاہر کرتا ہے۔

شاعر اس فقرے کا استعمال مسلسل ظلم کے تحت افراد کی برداشت یا استعفیٰ کو اجاگر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ان سماجی اصولوں پر بھی تنقید کر سکتا ہے جو ظلم کو فروغ دیتے ہیں۔

اپنی شاعرانہ جوہر میں، 'خوگر ظلم' مصیبت کے درمیان انسانی روح کی خاموش برداشت کو بیان کرتا ہے۔