Meaning of
مالک دو جہاں
maalik-e-do-jahaan • मालिक-ए-दो-जहाँ
Urdu
دونوں جہانوں کا مالک
English
lord of both worlds
Hindi
दोनों जहानों का मालिक
Origin
Arabic
Nuance
یہ عبارت ایک عظیم اور الہی مفہوم رکھتی ہے، اکثر ایک اعلیٰ ہستی یا وجود کی وضاحت کے لیے استعمال ہوتی ہے جو تمام وجود پر حکمرانی کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ ہمہ گیر طاقت اور حتمی اختیار کا احساس پیدا کرتی ہے۔
Poetic Usage
شاعر 'مالک دو جہاں' کا استعمال الہی طاقت اور کنٹرول کے موضوعات کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر حتمی اختیار کے لیے ایک استعارہ کے طور پر کام کرتا ہے، انسانی حدود کے برعکس۔
Closing Insight
شاعری کی دنیا میں، 'مالک دو جہاں' اس حتمی طاقت کی علامت ہے جو زمینی حدود سے ماورا ہے، الہی موجودگی کی یاد دہانی کراتا ہے۔