Meaning of

محض

mahj • महज़

صرف; محض; فقط

mere; only; just

केवल; मात्र; सिर्फ़

Arabic

ج
سے کے سنگ سفر طے کرنے کی آرزو تھی مجھے
حقیقت ناوک قاف
یوں کاغذ کی کشتی پر سوار تھا

3

Download Image

यूँँ कहें नुमाइशों के दिन क़रीब आ गए
महज़ फ़रवरी हो किस तरह महीना इश्क़ का

31

Download Image

تیرا پیچھا کرتے کرتے جانے کیوں
ہے وہ ہے وہ ہے وہ دنیا داری سے پیچھے چھوٹ گیا تو

تو نے تو اے جان قاف
یوں دل توڑا تھا
تو کیا جانے ہے وہ ہے وہ اندر تک ٹوٹ گیا تو

29

Download Image

اسے کیا ہی پتا ہوگا عبادت ک
سے کو کہتے ہے
مجھے پوچھا جو کرتی تھی محبت ک
سے کو کہتے ہے

سبھی وعدے سبھی ق
سے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ صنم نکلے قاف
یوں قصے
تصور سے ہے وہ ہے وہ نے سیکھا حقیقت ک
سے کو کہتے ہے

12

Download Image

کبھی شیشہ کبھی کنگھی کبھی چادر بدلنا تھا
رہے تھے ساتھ جن
ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی حقیقت سب منظر بدلنا تھا

تمہارے بعد ہے وہ ہے وہ ہم نے ی
ہاں کیا کیا نہیں بدلا
تمہارا کیا تھا جاناں کو تو جاناں نے نمبر بدلنا تھا

8

Download Image

روپ اور رنگ یہ سمے سب لے گیا تو
قاف
یوں تصویر اور آئی
لگ رہ گیا تو

6

Download Image

قاف
یوں تصویر دیکھ لگتا ہے
چنو جاں جاناں قریب بیٹھی ہوں

6

Download Image

قاف
یوں اک خواب بنکر رہ گئی جاناں
حقیقت ہے وہ ہے وہ تمہیں سب چاہتے تھے

4

Download Image

زہر کھا کھا کر گزارا کر رہے ہیں آجکل
زندگی تجھ سے کنارہ کر رہے ہیں آجکل

تو بے حد ہی دلنشین ہے مہجبین ہے تو م
گر
تجھ کو اپنا کر خسارہ کر رہے ہیں آجکل

4

Download Image

غضب ہمت صبح ماں سے وداع بیٹی ہوئی ہوں گی
بچھڑنا ماں ابھی ا
سے سے جاناں نے سپنا سمجھتی ہے

ستم گر یہ مجھے جھوٹا کہا جاناں نے قیامت ہے
قسم کھاکر ک
ہوں تو ماں ابھی سچا سمجھتی ہے

3

Download Image

ج
سے کے سنگ سفر طے کرنے کی آرزو تھی مجھے
حقیقت ناوک قاف
یوں کاغذ کی کشتی پر سوار تھا

3

Download Image

यूँँ कहें नुमाइशों के दिन क़रीब आ गए
महज़ फ़रवरी हो किस तरह महीना इश्क़ का

31

Download Image

محض کا اصل مفہوم کسی چیز کے صرف وہی ہونے کا ہے جو وہ ہے، بغیر کسی اضافے یا آرائش کے۔ شاعری میں، یہ لفظ اکثر سادگی یا وضاحت کے احساس کو گہرا کرتا ہے، موضوع کے جوہر کو بغیر کسی خلل کے نمایاں کرتا ہے۔

محض کا استعمال شاعر کسی جذبات یا شے کی پاکیزگی یا وحدانیت کو اجاگر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر زیادہ پیچیدہ یا پرت دار تصورات کے برعکس ہوتا ہے، جس سے اصل حقیقت یا احساس پر توجہ مرکوز ہوتی ہے۔

شاعری میں، محض ہمیں سادگی میں خوبصورتی دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کبھی کبھی، جوہر ہی کافی ہوتا ہے۔