Meaning of

میر

meer • मीर

سردار; رہنما; شاعر

chief; leader; poet

मुखिया; नेता; कवि

Persian

مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا تری پیچھے
تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مری آگے

181

Download Image

مجھ سے مت پوچھو کے ا
سے بے وجہ ہے وہ ہے وہ کیا اچھا ہے
اچھے اچھوں سے مجھے میرا برا اچھا ہے

ک
سے طرح مجھ سے محبت ہے وہ ہے وہ کوئی جیت گیا تو
یہ لگ کہ دینا کے بستر ہے وہ ہے وہ بڑا اچھا ہے

569

Download Image

سوچوں تو ساری عمر محبت ہے وہ ہے وہ کٹ گئی
دیکھوں تو ایک بے وجہ بھی میرا نہیں ہوا

553

Download Image

کیا خبر کون تھا حقیقت اور میرا کیا لگتا تھا
ج
سے سے مل کر مجھے ہر بے وجہ برا لگتا تھا

444

Download Image

مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
تو میرا شوق دیکھ میرا انتظار دیکھ

297

Download Image

بھرم رکھا ہے تری ہجر کا ورنا کیا ہوتا ہے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ رونے پہ آ جاؤں تو جھرنا کیا ہوتا ہے

میرا چھوڑو ہے وہ ہے وہ نہیں تھکتا میرا کام یہی ہے
لیکن جاناں نے اتنے پیار کا کرنا کیا ہوتا ہے

274

Download Image

گلے تو لگنا ہے ا
سے سے کہو ابھی لگ جائے
یہی لگ ہوں میرا ا
سے کے بغیر جی لگ جائے

ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ رہا ہوں تری پا
سے یہ لگ ہوں کہ کہی
تیرا مزاق ہوں اور مری زندگی لگ جائے

268

Download Image

یہ فلموں ہے وہ ہے وہ ہی سب کو پیار مل جاتا ہے آخر ہے وہ ہے وہ ہے وہ
م
گر سچمچ ہے وہ ہے وہ ا
سے دنیا ہے وہ ہے وہ ایسا کچھ نہیں ہوتا

چلو مانا کہ میرا دل مری محبوب کا گھر ہے
پر ا
سے کے پیچھے ا
سے کے گھر ہے وہ ہے وہ کیا کیا کچھ نہیں ہوتا

214

Download Image

ذہن سے یادوں کے لشکر جا چکے
حقیقت مری محفل سے اٹھ کر جا چکے

میرا دل بھی چنو لا
گرا ہے
سب حکومت کر کے باہر جا چکے

206

Download Image

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے
ا
گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے

ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا
سے کے ساتھ ج
سے طرح گزارتا ہوں زندگی
اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے

206

Download Image

مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا تری پیچھے
تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مری آگے

181

Download Image

مجھ سے مت پوچھو کے ا
سے بے وجہ ہے وہ ہے وہ کیا اچھا ہے
اچھے اچھوں سے مجھے میرا برا اچھا ہے

ک
سے طرح مجھ سے محبت ہے وہ ہے وہ کوئی جیت گیا تو
یہ لگ کہ دینا کے بستر ہے وہ ہے وہ بڑا اچھا ہے

569

Download Image

اصل میں 'میر' کا مطلب ہوتا ہے سردار یا رہنما، جو اختیار اور احترام کی علامت ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر ایک رہنما شخصیت کی تصویر پیش کرتا ہے، جو صرف عہدے میں نہیں بلکہ خیال اور جذبات میں بھی رہنمائی کرتا ہے۔

شاعر اکثر 'میر' کو حکمت اور رہنمائی کی علامت کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یہ ایک حقیقی رہنما اور ایک استعاراتی رہنما دونوں کی نمائندگی کر سکتا ہے، جو دل و دماغ کی رہنمائی کرتا ہے۔ 'راجا' جیسے الفاظ کے برعکس، 'میر' ایک زیادہ ذاتی اور فکری قیادت کا اشارہ دیتا ہے۔

شاعری میں، 'میر' اپنے لغوی معنی سے آگے بڑھ کر خیال اور جذبات کا مینار بن جاتا ہے۔