Meaning of

مثل خار

misl-e-khaar • मिस्ल-ए-ख़ार

کانٹے کی طرح; تیزی; درد

like a thorn; sharpness; pain

काँटे की तरह; तीखापन; दर्द

Persian

یہ جملہ کانٹے کی تیز اور چبھنے والی فطرت کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر خوبصورتی یا محبت کے ساتھ آنے والے درد اور چیلنجوں کی علامت ہوتا ہے، جیسے گلاب کے ساتھ کانٹے ہوتے ہیں۔

شاعر اس جملے کا استعمال خوبصورتی اور درد کی دوگانگی کو اجاگر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ محبت کی کھٹی میٹھی فطرت کا استعارہ ہے۔ اکثر نرمی یا ملائمت کے برعکس استعمال ہوتا ہے۔

اپنی تیزی میں، 'مثل خار' زندگی کے تضادات کا جوہر پکڑتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خوبصورتی اکثر درد کے ساتھ چلتی ہے۔