Meaning of

مصرع آوارہ

misra-e-aawaara • मिस्रा-ए-आवारा

آوارہ مصرع; بھٹکتی ہوئی لائن

wandering verse; stray line

भटकती पंक्ति; आवारा शेर

Persian

اصل میں، 'مصرع آوارہ' ایک ایسی لائن کی طرف اشارہ کرتا ہے جو بغیر کسی مقررہ جگہ یا سیاق و سباق کے بھٹکتی ہے۔ شاعری میں، یہ لفظ ایک ایسی لائن کی تصویر پیش کرتا ہے جو ہوا میں پتے کی طرح بہتی ہے، آزاد اور بے قید۔

شاعر اکثر 'مصرع آوارہ' کا استعمال آزادی اور غیر متوقعی کے موضوعات کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسی لائن کا اشارہ دے سکتا ہے جو اکیلی کھڑی ہوتی ہے، ایک عارضی خیال یا جذبات کو پکڑتی ہے۔ یہ منظم، سخت شکلوں کے برعکس، خودبخودیت کا احساس پیش کرتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'مصرع آوارہ' غیر محدود حسن کو مجسم کرتا ہے۔ یہ ہمیں ان لمحات کی طاقت کی یاد دلاتا ہے جو غیر منصوبہ بند ہوتے ہوئے بھی گہرائی سے متاثر کن ہوتے ہیں۔