Meaning of

مجرم شوق

mujrim-e-shauq • मुजरिम-ए-शौक़

شوق کا مجرم; خواہش کا قصوروار

culprit of passion; guilty of desire

जुनून का अपराधी; इच्छा का दोषी

Persian

'مجرم شوق' کا فقرہ اپنے ہی جذبات یا شوق میں گرفتار ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ یہ ایک عاشق کی تصویر کو ابھارتا ہے جو اپنی خواہش سے اتنا مغلوب ہے کہ وہ مجرم محسوس کرتا ہے، جیسے اس کے جذبات عقل کے خلاف ایک جرم ہیں۔

شعراء 'مجرم شوق' کا استعمال خواہش اور فرض کے درمیان تصادم کو تلاش کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر محبت اور معاشرتی توقعات کے درمیان پھنسے دل کی کشمکش کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

محبت اور فرض کے رقص میں، 'مجرم شوق' دل کی خاموش بغاوت کو پکڑتا ہے۔