Meaning of

پامال

paamaal • पामाल

پامال; تھکا ہوا; دبایا ہوا

trampled; worn out; downtrodden

रौंदा हुआ; थका हुआ; दबा हुआ

Persian

بھوک ہے تو دل پامال کر روٹی نہیں تو کیا ہوا
آجکل دہلی ہے وہ ہے وہ ہے کاٹو یہ مدعا

31

Download Image

ہے وہ ہے وہ کیا ک
ہوں کے مجھے دل پامال کیوں نہیں آتا
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کروں کے تجھے دیکھنے کی عادت ہے

118

Download Image

حقیقت مجھ کو چھوڑ کے ج
سے آدمی کے پا
سے گیا تو
برابری کا بھی ہوتا تو دل پامال آ جاتا

108

Download Image

مری ہونٹوں کے دل پامال سے پوچھو
ا
سے کے ہاتھوں سے گال تک کا سفر

60

Download Image

ا
سے گلی نے یہ سن کے دل پامال کیا
جانے والے ی
ہاں کے تھے ہی نہیں

51

Download Image

اپنی خودداری تو پامال نہیں کر سکتے
ا
سے کا نمبر ہے م
گر کال نہیں کر سکتے

46

Download Image

کہی یہ دل پامال کھا جائے لگ ہم کو
کسی کے دکھ سمیٹے پھروں رہے ہیں

45

Download Image

ہم ا
گر دل پامال ہے وہ ہے وہ رہتے ہیں تو کیا کچھ بھی نہیں
جانے والو کبھی آ دیکھو بچا کچھ بھی نہیں

44

Download Image

وحشت کے زہر سے تازہ غزل نکال
اے دل پامال کے درخت میرا میٹھا پھل نکال

43

Download Image

عشق ہے وہ ہے وہ جی کو دل پامال و تاب کہاں
ا
سے سے آنکھیں لڑیں تو خواب کہاں

34

Download Image

بھوک ہے تو دل پامال کر روٹی نہیں تو کیا ہوا
آجکل دہلی ہے وہ ہے وہ ہے کاٹو یہ مدعا

31

Download Image

ہے وہ ہے وہ کیا ک
ہوں کے مجھے دل پامال کیوں نہیں آتا
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کروں کے تجھے دیکھنے کی عادت ہے

118

Download Image

یہ لفظ کسی ایسی چیز یا شخص کی تصویر پیش کرتا ہے جسے بار بار دبایا یا نظرانداز کیا گیا ہو۔ شاعری میں، یہ زندگی کی جدوجہد اور تھکاوٹ کی علامت ہے، جو حالات سے تھک جانے کے احساس کو پکڑتا ہے۔

شاعر اکثر 'پامال' کا استعمال مظلوم یا تھکی ہوئی روح کی حالت کو بیان کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ تازگی یا زندگی کو ظاہر کرنے والے الفاظ کے برعکس ہوتا ہے، مایوسی کی گہرائی کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'پامال' زندگی کے مسلسل بوجھ کی ایک دردناک یاد دہانی کے طور پر کام کرتا ہے۔