Meaning of
رشک سبا
rashk-e-saba • रश्क-ए-सबा
Urdu
ہوا کی حسد; کچھ یا کوئی اتنا خوبصورت کہ ہوا بھی حسد کرے
English
envy of the breeze; something or someone so graceful it makes the breeze envious
Hindi
हवा की ईर्ष्या; कुछ या कोई इतना सुंदर कि हवा भी ईर्ष्या करे
Origin
Persian
Nuance
یہ فقرہ نرم ہوا کی تصویر پیش کرتا ہے، جو اکثر خوبصورتی اور لطافت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ شاعری میں، یہ ایسی خوبصورتی یا نزاکت کا اشارہ دیتا ہے جو اتنی گہری ہو کہ قدرتی خوبصورتی کی علامت ہوا بھی حسد محسوس کرے۔
Poetic Usage
شاعر اس فقرے کا استعمال بے مثال خوبصورتی کو اجاگر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر رومانوی اشعار میں نظر آتا ہے، محبوب کی نزاکت کو بڑھاتا ہے۔ یہ سخت عناصر کے برعکس نرمی اور نزاکت کو اجاگر کرتا ہے۔
Closing Insight
شاعری میں، 'رشک سبا' ایک استعارہ بن جاتا ہے جو ماورائی خوبصورتی کی علامت ہے۔ یہ قارئین کو ایسی نزاکت کا تصور کرنے کی دعوت دیتا ہے جو قدرت کے بہترین سے بھی آگے ہو۔