Meaning of
رشک طور
rask-e-toor • रश्क-ए-तूर
Urdu
رشک طور; الہی حسد
English
envy of Mount Sinai; divine envy
Hindi
तूर पर्वत की ईर्ष्या; दिव्य ईर्ष्या
Origin
Persian
Nuance
'رشک طور' اصطلاح بائبل اور قرآن کی طور پہاڑ کی تصویر سے ماخوذ ہے، جو الہی وحی کی جگہ ہے۔ یہ ایسی مقدس جگہوں سے وابستہ روحانی بلندیوں اور الہی ملاقاتوں کے لیے ایک خواہش یا حسد کا اشارہ دیتا ہے۔ شاعری میں، اس لفظ کا استعمال ماورائیت اور روحانی بصیرت کے لیے ایک خواہش کا اظہار کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
Poetic Usage
شاعر 'رشک طور' کا استعمال گہری روحانی خواہش کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ اسے اکثر الہی تعلق، روحانی امنگ، اور زمینی دائرے سے آگے بڑھنے کی انسانی خواہش کے موضوعات کو دریافت کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
Closing Insight
شاعری کے منظر نامے میں، 'رشک طور' روحانی خواہش اور الہی تعلق کی تلاش کے جوہر کو پکڑتا ہے۔