Meaning of

ریشہ

resha • रेशा

ریشہ; دھاگہ; تار

fiber; thread; strand

रेशा; धागा; तंतु

Persian

چلی آتی ہے اب تو ہر کہی بازار کی راکھی
سنہری سبز ریشم زرد اور مطلع کی راکھی

28

Download Image

نظر آئی لگ تو جن کو پریشانی سے مرتے ہیں
جو تجھ کو دیکھ لیتے ہیں حقیقت حیرانی سے مرتے ہیں

82

Download Image

پریشاں ہے حقیقت جھوٹا عشق کر کے
وفا کرنے کی نوبت آ گئی ہے

65

Download Image

نیند ا
سے کی ہے دماغ ا
سے کا ہے راتیں ا
سے کی ہیں
تیری زلفیں ج
سے کے بازو پر پریشاں ہوں گئیں

61

Download Image

اپنی حالت کا خود احسا
سے نہیں ہے مجھ کو
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اوروں سے سنا ہے کہ پریشان ہوں ہے وہ ہے وہ

51

Download Image

یہ ک
سے طرح کا شور ہے پچھلے مکان ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ا
سے سمے آدھی رات پریشان کون ہے

43

Download Image

چاند بھی حیران دریا بھی پریشانی ہے وہ ہے وہ ہے
عک
سے ک
سے کا ہے کہ اتنی روشنی پانی ہے وہ ہے وہ ہے

40

Download Image

جب بھی تری قربت کے کچھ امکان نظر آئی
ہم خوش ہوئے اتنے کہ پریشاں نظر آئی

38

Download Image

جینا مشکل ہے کے آسان ذرا دیکھ تو لو
لوگ لگتے ہیں پریشان ذرا دیکھ تو لو

ان چراغوں کے تلے ایسے اندھیرے کیوں ہیں
جاناں بھی رہ جاؤگے حیران ذرا دیکھ تو لو

37

Download Image

آتی ہے پریشانی تو آتا ہے خدا یاد
ور
لگ نہیں دنیا ہے وہ ہے وہ کوئی تری سوا یاد

34

Download Image

چلی آتی ہے اب تو ہر کہی بازار کی راکھی
سنہری سبز ریشم زرد اور مطلع کی راکھی

28

Download Image

نظر آئی لگ تو جن کو پریشانی سے مرتے ہیں
جو تجھ کو دیکھ لیتے ہیں حقیقت حیرانی سے مرتے ہیں

82

Download Image

ریشہ کی اصل معنی ان نازک دھاگوں سے ہے جو زندگی کے تانے بانے کو بُنتے ہیں۔ شاعری میں، یہ اکثر ان پیچیدہ تعلقات اور نازک بندھنوں کی علامت ہوتا ہے جو زندگی کو ایک ساتھ باندھے رکھتے ہیں۔

شعراء 'ریشہ' کا استعمال انسانی تعلقات کی نازکیت کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ جذبات کے نازک توازن یا محبت اور نقصان کے درمیان کی باریک لکیر کی نمائندگی کر سکتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'ریشہ' ہمیں ان نازک دھاگوں کی یاد دلاتا ہے جو ہماری زندگیوں کو باندھتے ہیں، ہمیں انہیں سنبھالنے کی ترغیب دیتے ہیں۔