Meaning of

رسوا

roosva • रूस्वा

بدنام; ذلیل

disgraced; humiliated

बदनाम; अपमानित

Persian

پھروں کسی اجنبی پر بھروسا کروں
دل لگا کر ہے وہ ہے وہ غلطی دوبارہ کروں

زخم پچھلی محبت کے جو بھی ملے
کیا ہے وہ ہے وہ ا
سے زخم کو یوں ہی رسوا کروں

13

Download Image

کیوں لکھوں زلف و لب و رخسار پہ نغمے بے حد
پیار کی پہلی نظر رسوائیاں ہی کیوں لکھوں

75

Download Image

یوں تو رسوائی زہر ہے لیکن
عشق ہے وہ ہے وہ جان اسی سے پڑتی ہے

66

Download Image

کیسے کہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے ا
سے نے
بات تو سچ ہے م
گر بات ہے رسوائی کی

45

Download Image

تجھ کو سوچا تو پتا ہوں گیا تو رسوائی کو
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ہری سمجھ رکھا تھا تنہائی کو

45

Download Image

شکستہ دل شب غم درد رسوائی
انتقامن اتنا تو چلتا ہے محبت ہے وہ ہے وہ

44

Download Image

اپنی رسوائی تری نام کا چرچا دیکھوں
اک ذرا شعر ک
ہوں اور ہے وہ ہے وہ کیا کیا دیکھوں

32

Download Image

عشق جب تک لگ کر چکے رسوا
آدمی کام کا نہیں ہوتا

31

Download Image

شوق کے ہاتھوں اے دل مضطر کیا ہونا ہے کیا ہوگا
عشق تو رسوا ہوں ہی چکا ہے حسن بھی کیا رسوا ہوگا

21

Download Image

عشق ہماری بربادی کو دل سے دعائیں دیتا ہے
ہم سے پہلے اتنا روشن نام نہ تھا رسوائی کا

16

Download Image

پھروں کسی اجنبی پر بھروسا کروں
دل لگا کر ہے وہ ہے وہ غلطی دوبارہ کروں

زخم پچھلی محبت کے جو بھی ملے
کیا ہے وہ ہے وہ ا
سے زخم کو یوں ہی رسوا کروں

13

Download Image

کیوں لکھوں زلف و لب و رخسار پہ نغمے بے حد
پیار کی پہلی نظر رسوائیاں ہی کیوں لکھوں

75

Download Image

رسوا کا لفظ سماجی اور ذاتی زوال کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ اپنے اصل معنی میں، یہ عزت یا احترام کے نقصان کی نشاندہی کرتا ہے، اکثر عوامی نظر میں۔ شاعری نے اس لفظ کو دھوکہ دہی، شرم اور شہرت کی نازکی کے موضوعات کو تلاش کرنے کے لیے اپنایا ہے۔

شعراء اکثر 'رسوا' کا استعمال عزت سے زوال کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ایک بار معزز فرد کی تصویر کو ابھار سکتا ہے، جسے اب معاشرے نے مسترد کر دیا ہے۔ یہ لفظ 'عزت' کے برعکس ہے، سماجی مقام کی عارضی نوعیت کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'رسوا' عزت اور ذلت کے درمیان نازک توازن کی ایک دردناک یاد دہانی کے طور پر کام کرتا ہے۔