Meaning of

طبیعت

tabee'at • तबी'अत

مزاج; طبیعت; حالت

nature; temperament; mood

स्वभाव; मिज़ाज; मनोदशा

Arabic

نکلتے ہیں کفن باندھے فنا ہونے کی نیت سے
کے سنگ ایک ہی اچھالیں گے م
گر اب کے طبیعت سے

12

Download Image

کرتا نہیں خیال تیرا ا
سے خیال سے
تنگ آ گیا تو ا
گر تو مری دیکھ بھال سے

چل مری ساتھ اور طبیعت کی فکر چھوڑ
دو میل دور ہے میرا گھر اسپتال سے

158

Download Image

کیسے آکاش ہے وہ ہے وہ سوراخ نہیں ہوں سکتا
ایک پتھر تو طبیعت سے اچھالو یاروں

91

Download Image

کچھ طبیعت ہے وہ ہے وہ اداسی بھی ہوا کرتی ہے
ہر کوئی عشق کا مارا ہوں ضروری تو نہیں

60

Download Image

ہم ہیں رہے امید سے بلکل پرے پرے
اب انتظار آپ کا کوئی کرے کرے

ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تو یوں ہی اپنی طبیعت سنائی تھی
جاناں تو مے کش صفائیاں دینے انتقامن انتقامن

54

Download Image

جاناں ا
سے خاموش طبیعت پہ طنز مت کرنا
حقیقت سوچتا ہے بے حد اور بولتا کم ہے

52

Download Image

مجھے یہ ڈر ہے تیری آرزو لگ مٹ جائے
بے حد دنوں سے طبیعت مری ادا
سے نہیں

36

Download Image

ذرا سا غم ہوا اور رو دیے ہم
بڑی چھوؤں گا طبیعت ہوں گئی ہے

35

Download Image

عشق سے طبیعت نے آب و زیست کا مزہ پایا
درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا

29

Download Image

پھروں آج عدم شام سے غمگین ہے طبیعت
پھروں آج سر شام ہے وہ ہے وہ کچھ سوچ رہا ہوں

25

Download Image

نکلتے ہیں کفن باندھے فنا ہونے کی نیت سے
کے سنگ ایک ہی اچھالیں گے م
گر اب کے طبیعت سے

12

Download Image

کرتا نہیں خیال تیرا ا
سے خیال سے
تنگ آ گیا تو ا
گر تو مری دیکھ بھال سے

چل مری ساتھ اور طبیعت کی فکر چھوڑ
دو میل دور ہے میرا گھر اسپتال سے

158

Download Image

اصل میں 'طبیعت' کسی شخص یا چیز کی فطری خصوصیات یا رجحان کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر انسانی جذبات کی گہرائیوں اور مزاج کی لطیف تبدیلیوں کو دریافت کرتا ہے، وجود کی جوہر کو پکڑتا ہے۔

شاعر 'طبیعت' کا استعمال انسانی جذبات کی پیچیدگیوں میں غوطہ لگانے کے لیے کرتے ہیں۔ اسے اکثر عقل یا دانش کے برعکس رکھا جاتا ہے، جذبات کی غیر متوقع فطرت کو اجاگر کرتے ہوئے۔ یہ خود فطرت کے مزاج کی عکاسی بھی کر سکتا ہے، جیسے بدلتے موسم۔

شاعری میں، 'طبیعت' روح کے چھپے ہوئے مناظر کی عکاسی کرنے والا آئینہ بن جاتا ہے۔ یہ اندرونی نازک توازن کی نرم یاد دہانی ہے۔