Meaning of

سنائیں

tamgha-e-ulfat • तमग़ा-ए-उलफ़त

محبت کا تمغہ; الفت کی علامت

medal of love; emblem of affection

प्रेम का तमग़ा; स्नेह का प्रतीक

Persian

شعر حقیقت ہم نہیں سنائیں گے
عیب سارے نظر آ جائیں گے

کھینچ لیتے ہیں ہاتھ موقعے پر
ہاتھ ان سے نہیں ملائیں گے

2

Download Image

گیت لکھے بھی تو ایسے کے سنائیں لگ گئے
زخم یوں لفظوں ہے وہ ہے وہ اترے کے دکھائیں لگ گئے

آج تک رکھے ہیں پچھتاوے کی الماری ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ایک دو وعدے جو دونوں سے نبھائیں لگ گئے

63

Download Image

روز روئیںگے دل ج
لائیں گے
ایک دن تھک کے بیٹھ جائیں گے

کون ہم کو گلے لگاتا ہے
ہم کسے داستان سنائیں گے

36

Download Image

اب جو کوئی پوچھے بھی تو ا
سے سے کیا شرح حالات کریں
دل ٹھہرے تو درد سنائیں درد تھمے تو بات کریں

34

Download Image

لگ ہوں اشعار ہے وہ ہے وہ پاکستان لگ صحیح
خود کلامی کا ذریعہ ہی صحیح

جاناں لگ نوازو شعر کو لگ سنائیں گے
یہ میرا ذاتی نظریہ ہی صحیح

21

Download Image

حال دل جاناں کو ہم سنائیں گے
اپنا غم بھی تمہیں دکھائیں گے

7

Download Image

اک سلسلہ طویل رہا انتظار کا
اب حال کیا سنائیں دل بے قرار کا

5

Download Image

سنائیں کیا ہم یہ جانتے ہیں کہ جی کا باقی سکون لوٹےگا
ہمارے ن
غموں پہ رو پڑےگا تمہارا ہنستا گلاب چہرہ

5

Download Image

جب تری بچے مری نجم سنائیں گے تجھ کو
تب تو سمجھے گی تو نے کیا کھویا تھا اے لڑکی

2

Download Image

کسے جا کر سنائیں قصے اب اپنی محبت کے
یہاں ہر آدمی کھویا ہوا ہے اپنی ہی دھن ہے وہ ہے وہ

2

Download Image

شعر حقیقت ہم نہیں سنائیں گے
عیب سارے نظر آ جائیں گے

کھینچ لیتے ہیں ہاتھ موقعے پر
ہاتھ ان سے نہیں ملائیں گے

2

Download Image

گیت لکھے بھی تو ایسے کے سنائیں لگ گئے
زخم یوں لفظوں ہے وہ ہے وہ اترے کے دکھائیں لگ گئے

آج تک رکھے ہیں پچھتاوے کی الماری ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ایک دو وعدے جو دونوں سے نبھائیں لگ گئے

63

Download Image

اپنے اصل معنی میں، 'تمغۂ الفت' محبت یا الفت کی علامتی شناخت کو ظاہر کرتا ہے، جیسے بہادری کے لیے دیا گیا تمغہ۔ شاعری میں، یہ تصور محبت کے ذریعے عطا کردہ غیر مرئی اعزازات کی نمائندگی کرتا ہے، جو اکثر نظر نہ آنے کے باوجود گہرائی سے محسوس کیے جاتے ہیں۔

شاعر 'تمغۂ الفت' کا استعمال اکثر محبت کی خاموش لیکن گہری شناختوں کو اجاگر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ دنیا کے نظر آنے والے اعزازات کے مقابلے میں الفت کے غیر مرئی، دل سے محسوس کیے جانے والے اعزازات کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'تمغۂ الفت' محبت کے خاموش لیکن گہرے انعامات کی یاد دلاتا ہے، جو دنیا سے پوشیدہ ہوتے ہیں لیکن دل سے عزیز ہوتے ہیں۔