Meaning of

تقریر

taqreer • तक़रीर

تقریر; خطاب

speech; address

भाषण; संबोधन

Arabic

اسے پانے کا آسرا تک نہیں
سو کھونے کی تلخی تقریر ہے مری پا
سے

1

Download Image

جاناں ستاروں کے بھروسے پہ لگ بیٹھے رہنا
اپنی تلخی تقریر سے تقدیر بناتے جاؤ

27

Download Image

تلخی تقریر کے دست رنگین سے تقدیر درخشاں ہوتی ہے
قدرت بھی مدد فرماتی ہے جب کوشش انسان ہوتی ہے

26

Download Image

کوٹ اور پتلون جب پہنا تو مسٹر بن گیا تو
جب کوئی تقریر کی جلسے ہے وہ ہے وہ لیڈر بن گیا تو

24

Download Image

بجلی اک کوندھ گئی آنکھوں کے آگے تو کیا
بات کرتے کہ ہے وہ ہے وہ لب تشنے تقریر بھی تھا

19

Download Image

کچھ ا
سے کے سنور جانے کی تلخی تقریر نہیں ہے
دنیا ہے تری زلف گرہ گیر نہیں ہے

10

Download Image

اب چھوڑ کر تنہا مجھے مصروف ہے حقیقت بھی کہی
ا
سے کے لیے بھی ہے وہ ہے وہ فقط تلخی تقریر تھا تنہائی کا

2

Download Image

چاہ رکھتا ہے مری سے حقیقت ا
گر تقریر کی
بات دیری
لگ محبت کی اٹھایا نہیں کرے

2

Download Image

عدو ہوتے رہے احباب کیسی یہ کرشمائی
اسی تلخی تقریر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ روز صبح و شام رہتا تھا

1

Download Image

سند رہے سب کو جلادوں نے تقریریں کر دی ہیں
کافر کا جو سر کاٹےگا حقیقت مومن کہلائے گا

1

Download Image

اسے پانے کا آسرا تک نہیں
سو کھونے کی تلخی تقریر ہے مری پا
سے

1

Download Image

جاناں ستاروں کے بھروسے پہ لگ بیٹھے رہنا
اپنی تلخی تقریر سے تقدیر بناتے جاؤ

27

Download Image

’تقریر‘ بولے گئے الفاظ کا وزن اٹھاتا ہے، جو اکثر رسمی اور منظم ہوتے ہیں۔ شاعری میں، یہ اظہار کی طاقت، خیالات کو فصاحت کے ساتھ بیان کرنے کے فن کی علامت ہو سکتا ہے۔

شاعر ’تقریر‘ کا استعمال قائل کرنے، الفاظ کے اثر، یا فصیح تقریر کی خوبصورتی کے موضوعات کو تلاش کرنے کے لیے کر سکتے ہیں۔ اسے خاموشی یا ان کہے خیالات کے برعکس رکھا جا سکتا ہے۔

’تقریر‘ کی گونج میں، الفاظ اپنی دیرپا بازگشت پاتے ہیں۔