Meaning of

تراز

taraaz • तराज़

توازن; ترازو; برابری

balance; scale; equilibrium

संतुलन; तराजू; समता

Arabic

اچھا تمہیں اعتراض رونے سے بھی اب مری
خنجر بھی ہے گھونپنا خوں بھی نہیں چاہتے

0

Download Image

جاناں بجلیاں رکھو تو رکھو حسن کی ی
ہاں
ہم بھی ترازو ہے وہ ہے وہ یہ دل زار رکھ چکے

27

Download Image

جو محبت لٹایا کرتے تھے
حقیقت ترازو خرید لائے ہیں

10

Download Image

نیا سال آیا چنوتی نئی ہے
ترازو نیا ہے کسوٹی نئی ہے

2

Download Image

چھوڑنا ہے وہ ہے وہ آپ چنو ہی پدھارو اور ب
سے
مسکراؤ بن ترازو تول مری شہر ہے وہ ہے وہ

1

Download Image

نہیں معلوم ہم کیسے ترازو بن گئے ہے
بنے تو تھے کسی کا ہاتھ بازو بن گئے ہے

1

Download Image

ترازو ہاتھ ہے وہ ہے وہ لو بھاو کو اب تولنا ہوگا
ابھی تک چپ رہے تھے جاناں م
گر اب بولنا ہوگا

1

Download Image

تول کر دیکھا ترازو ہے وہ ہے وہ سبھی کچھ ڈال کر جو
سب مقابل ایک آنسو کے مجھے ہلکا دکھا ہے

0

Download Image

ترازو تھامیے اور تول دیجئے
ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ بکنے کا اک ماحول دیجئے

محبت آئی ہے اور ہم سے ملنے
ذرا ا
سے میز سے پستول دیجئے

0

Download Image

ترازو کیسا ہے یہ انصاف کا جو
غریبوں کی طرف جھکتا نہیں ہے

0

Download Image

اچھا تمہیں اعتراض رونے سے بھی اب مری
خنجر بھی ہے گھونپنا خوں بھی نہیں چاہتے

0

Download Image

جاناں بجلیاں رکھو تو رکھو حسن کی ی
ہاں
ہم بھی ترازو ہے وہ ہے وہ یہ دل زار رکھ چکے

27

Download Image

تراز لفظ ایک نازک توازن کی تصویر پیش کرتا ہے، ایک ایسا ترازو جو صرف وزن نہیں بلکہ زندگی کے توازن کو بھی ماپتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر متضاد جذبات یا حالتوں کے درمیان باریک لکیر کی علامت ہوتا ہے۔

شاعر 'تراز' کا استعمال انصاف اور عدل کے موضوعات کی تلاش کے لیے کرتے ہیں۔ یہ روح کے وزن یا محبت اور فرض کے درمیان توازن کی نمائندگی کر سکتا ہے۔ یہ لفظ اکثر اخلاقی الجھنوں یا انسانی فطرت کی دوہریت پر غور کرنے والی نظموں میں ظاہر ہوتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'تراز' زندگی کے مطالبات کے نازک توازن کی یاد دہانی کراتا ہے۔ یہ ایک ایسا لفظ ہے جو دل کے گہرے تنازعات کو تولتا ہے۔