Meaning of
تزلزل
tazlajul • तज़लज़ुल
Urdu
لرزش; اضطراب; بے چینی
English
tremor; disturbance; agitation
Hindi
कंपन; अशांति; उत्तेजना
Origin
Arabic
Nuance
اپنے اصل معنی میں، 'تزلزل' جسمانی یا جذباتی لرزش کو ظاہر کرتا ہے، ایک اضطراب جو سکون کو بگاڑ دیتا ہے۔ شاعری میں، یہ لفظ اکثر دل کی اندرونی ہلچل کو پکڑتا ہے، جذبات کی وہ لرزش جو روح کے ذریعے پھیلتی ہے۔
Poetic Usage
شاعر 'تزلزل' کا استعمال طوفان میں پتوں کی لرزش، عاشق کے دل کی دھڑکن، یا پر سکون ذہن کی بے چینی کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ استحکام اور سکون کے الفاظ کے برعکس ہے، انسانی جذبات کی نزاکت کو اجاگر کرتا ہے۔
Closing Insight
تزلزل زندگی کی غیر یقینی صورتحال کا جوہر پکڑتا ہے، جہاں جذبات ہوا کی طرح عارضی ہوتے ہیں۔