Meaning of

دستور ستم

Dastoor-e-sitam • दस्तूर-ए-सितम

ظلم کی روایت; ستم کی رسم

custom of oppression; tradition of tyranny

उत्पीड़न की परंपरा; अत्याचार की रीत

Persian

یہ فقرہ ایک دائمی ناانصافی کا احساس بیدار کرتا ہے، جہاں ظلم صرف ایک عمل نہیں بلکہ ایک گہری جڑی ہوئی روایت ہے۔ شاعری میں، یہ تاریخی تکلیف کے بوجھ اور ظلم کی خاموش قبولیت کی عکاسی کرتا ہے۔

شاعر اکثر اس فقرے کا استعمال مصائب کی چکروی نوعیت کو اجاگر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ناانصافی کو برقرار رکھنے والے معاشرتی اصولوں کی تنقید کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ فقرہ انصاف اور آزادی کے نظریات کے ساتھ بھی تضاد پیدا کر سکتا ہے، گہرائی سے جڑی ہوئی نظاموں کے خلاف جدوجہد کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'دستور ستم' روایت کی زنجیروں کے خلاف مزاحمت کی ایک طاقتور علامت بن جاتا ہے۔